تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 174
بند ہو گئی اور کانپنے لگی ہی ہے حضرت سید حبیب اللہ شاہ صاحب کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی قدر والہانہ عشق تھا اس کا ذکر شورش صاحب نے درج ذیل الفاظ میں کیا ہے :- ایک دن میجر حبیب اللہ شاہ نے مجھے یاد کیا ان کے دفتر میں گیا تو ہوم سیکرٹری کا ایک خط دکھایا جس میں سردار گوپال سنگھ قومی سے جھٹکے کے تنازعہ کا ذکر تھا اور اس امر کی ہدایت کی گئی تھی کہ اذان دینے سے ٹیررسٹ وارڈ کے قیدیوں میں جو بد مزگی پیدا ہوتی ہے اس پر قابو پایا جائے۔انگریزی دوغلہ زبان ہے ایک ہی لفظ کے کئی مفہوم ہوتے ہیں۔یکی نے اور میجر حبیب اللہ شاہ نے اس خط سے جو مطلب اخذ کیا یہ تھا کہ اذان دینے کی حوصلہ شکنی کی جائے ہر حال یہ خط داخل دفتر ہو گیا۔میجر حبیب اللہ شاہ نے بھی کوئی تو تعبہ نہ دی نہ ہم نے غور کیا۔لاہور کا ڈپٹی کمشنر ہینڈ رسن تھا اسنے ایک دن اُس سوال پر کوئی ناگوار بات کسی میجر صاحب کو غصہ آگیا ہینڈ رسن کو فوراً ٹو کا " آپ آذان یا قرآن کے بارے میں محتاط رہیں ! یکی نہیں روک سکتا ؟ میجر صاحب ہینڈرسن سے اُلجھ پڑے۔ایک دفعہ پہلے بھی ہینڈرسن نے حضور کا نام بے ادبی سے لیا تو اس سے اُٹھے تھے۔تمام جیل میں ان کی اس حمیت کا چرچا تھا " ہے اولاد - ارسیده رضیہ بیگم صاحبه (حال ربوه) ۲- سیده تنقیه بیگم صاحبه حال کراچی ) سید منصور احمد شاہ صاحب ایر کموڈور ریٹائرڈ (حال کراچی) - حافظ عبدالعزیز صاحب نون ساکن حلال پور ضلع سرگودھا (ولادت ۱۸۷۵ء ، بیت ۱۱۹ وفات ، ارمئی ۱۹۵۳ م آپ نے ۲۹ دسمبر ۱۹۳۷ء کو اپنے قبول احمدیت کے حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا :- و ئیکس نے ۱۹۰۷ ء میں قادیان آگر دستی بیعت کی۔۔۔۔۔حضرت مولوی صاحب خلیفہ اول غیر مطبوعہ مکتوب بنام مولف" تاریخ احمدیت " به " پس دیوار زندان از شورش کا شمیری خه ۳۰ ، منا ۳ سے الفضل ۱۹ مئی ۱۹۵۳ء صه و مکتوب میاں عبد السميح صاحب نون ایڈووکیٹ سرگودہا ( بنام مولف کتاب )