تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 173 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 173

۱۶۳ کانگریسی راہنماؤں سے دبی زبان میں گلہ کیا۔آخر ایک روز ان کی معاونت سے مجھے ایک کمرہ مل گیا۔سجن سنگھ اپنی جگہ آگئے۔سید امیر شاہ نے اپنے طور پر مجھے بی کلاس کی مراعات دے دیں یعنی وہ تمام سامان بھیجوا دیا جو بی کلاس قیدیوں کے لئے مقرر تھا۔میجر مجیب اللہ شاہ نے میری صحت کی خرابی کے پیش نظر اعلیٰ خوراک اور پھل مہیا کرنے کا حکم دیا یا لے (۳) " شاه صاحب ( مراد سید حبیب شاہ صاحب مریز سیاست ناقل ) چاہتے تو لاہور میں رہ سکتے تھے یہاں انہیں بہت زیادہ آرام حاصل تھا خود منوہر لال ان کا خیال رکھتے۔سپرنٹنڈنٹ جیل میجر حبیب اللہ شاہ ایک تو خود شریف النفس انسان تھے دوسرے میرزا بشیر الدین محمود نے بھی انہیں کہہ رکھا تھا " نے هند و اخبار پرتاپ (لاہور) کے آریہ سماجی ایڈیٹر ماشہ کرشن نے آپ کو ڈپٹی انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات پنجاب ہونے پر ایک خصوصی نوٹ میں مبارکباد دی چنانچہ لکھا :- شاہ صاحب احمدی ہیں اور یکی آریہ سماجی با وجود اس کے میں انہیں اس ترقی پر مبارکباد دیتا ہوں کیونکہ وہ ہر لحاظ سے اس کے مستحق ہیں۔بہت کم سپر نٹنڈنٹ ہیں جو ہر دلعزیزی کے میدان میں اُن کا مقابلہ کر سکیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ خدا ترس اور فرض شناس ہیں۔ان کی خدا ترسی انہیں کسی قیدی پر بے جا سختی کی اجازت نہیں دیتی اور ان کی فرض شناسی اس بات پر تیار کرتی ہے کہ قواعد کی حدود میں رہ کر قیدیوں سے بہترین سلوک کیا جائے" سے میجر صاحب کے چھوٹے بھائی سید عبد الرزاق شاہ صاحب تحریر فرماتے ہیں :- آپ را ولپنڈی میں سنٹرل جیل کے سپرنٹنڈنٹ تھے۔ایک دن اُن کا داروغہ جیل ان کی کوٹھی میں بے وقت آیا اور شکایت کی کہ ایک کہنچنی جو قیدی ہے بڑا شور کر رہی ہے اور سب کو گندی گالیاں دے رہی ہے اور بے قابو ہے۔آپ نے اُس سے کہا تم چلو میں آتا ہوں۔گھر میں دو نفل پڑھے اور دعا کے بعد جیل خانہ گئے۔وہ کھڑی تھی جو نہی آپ اس کے سامنے ہوئے اس کی زبان پس دیوار زندان از شورش کا شمیری ۲۶ + له ايضا ص۲۷۷۰۲۷۶ پرتاپ دسمبر ۶۱۹۴۴ بحواله الفضل ۱۴ فتح ۱۳۲۳ پیش / ۱۴ دسمبر ۶۱۹۴۴ حث کا لم ۳ ۴۰ +