تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 172
۱۶۲ رسالہ چٹان لاہور کے ایڈیٹر شورش کا شمیری صاحب نے اپنی کتاب ” پس دیوار زندان“ میں اُن کے کئی چشم دید واقعات لکھے ہیں جن سے آپ کے پاکیزہ شمائل پر خوب روشنی پڑتی ہے۔چنانچہ لاہور سٹرل جیل کے ضمن میں لکھا ہے :۔(۱) سید امیر شاہ جیلر تھے اور میجر حبیب اللہ شاہ سپرنٹنڈنٹ دونو خاص خوبیوں کے مالک تھے۔کرنل پوری انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات نے منٹگمری سے واپسی کے بعد میجر حبیب اللہ شاہ سے ذکر کیا کہ ایک سخت طبیعت کا قیدی آرہا ہے اس پر قابو پا سکو گے ؟۔۔۔۔مجھے یہاں تشقرد و انتقام کے سبھی مرحلوں سے گزار کر لایا گیا تھا اور اب مجھے پر کوئی سا تجربہ کرنا باقی نہ رہا تھا میجر حبیب اللہ شاہ کا سلوک بہر حال شریفانہ تھا۔لطف کی بات یہ ہے کہ وہ پچھے قادیانی تھے۔ان کی ہمشیرہ میرزا بشیر الدین محمود کے عقد میں تھیں۔قادیان کے ناظر امور عامہ سید زین العابدین علی اللہ اُن کے بڑے بھائی تھے۔انہیں یہ بھی علم تھا کہ میں آل انڈیا مجلس احرار کا جنرل سیکرٹری ہوں اور احرار قادیانیوں کے حریف ہیں بلکہ دونوں میں انتہائی عداوت ہے۔میجر حبیب اللہ شاہ نے اشارہ بھی اس کا احساس نہ ہونے دیا انہوں نے اخلاق و شرافت کی انتہا کر دی۔پہلے دن اپنے دفتر میں اس خوش دلی اور کشادہ قلبی سے ملے گویا مدة العمر کے آشنا ہیں۔انہوں نے مجھے بیماری میں رکھا اور اچھی سے اچھی غذا دینا شروع کی نتیجہ میری صحت کے بال و پر پیدا ہو گئے اور میں چند ہفتوں ہی میں تندرستی کی راہ پر آگیا۔وہ بڑے جسور، انتہائی حلیم، بے حد خلیق اور غایت درجہ دیانت دار آفیسر تھے۔ان کے پہلو میں یقیناً ایک انسان کا دل تھا۔ان کی بہت سی خوبیوں نے انہیں سیاسی قیدیوں میں مقبول و محترم بنا دیا یا کے میجر حبیب اللہ شاہ نے قیمتی سے قیمتی دو امتیا کی اور اچھی سے اچھی غذا تاکہ منٹگمری جیل کے ظالمانہ ایام میں جو کچھ مجھ پر بیت چکی ہے اس کی تلافی ہو اور میں گمشدہ صحت حاصل کر سکوں۔جب ساتھیوں کی اس بیگانہ وشی کا انہیں پتہ چلا تو قلق ہوا سید امیر شاہ اور بھی آزردہ ہوئے بعض ے یہ واقعات انداز ۱۹۴۲ء کے ہیں : که پس دیوار زندانی از شورش کا شمیری شائع کردہ مکتبہ چٹان لاہور ص ۲۵، ص۲۵۵