تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 171
- عبد الستار شاہ صاحب کے فرزند ارجمند اور احمدیت کا مجستم پاک نمونہ تھے۔نمازوں اور تجد میں با قاعدگی رکھتے تھے اور قرآن پاک کے ساتھ خاص عشق تھا آپ پہلے فوج میں میجر آئی ایم ایس تھے پہلی جنگ عظیم (۱۹۱۴ - ۱۹۱۸ء) کے بعد جیل خانہ جات پنجاب کے سپرنٹنڈنٹ رہے اور ۱۹۴۴ء کے آخر میں ڈپٹی انسپکٹر جنرل جیلی بنا دئے گئے اور اسی عہدہ سے ریٹائر ہوئے اور پھر سیا لکوٹ میں چاہیے اور نہیں انتقال کیا۔سرکاری ملازمت میں جہاں جہاں رہے اپنے اخلاق ، خدمت اور رواداری سے سب کو گرویدہ بنا لیا حتی کہ غیر مسلم تک آپ کی بلند حوصلگی اور شان مروت کو دیکھ کر دنگ رہ گئے۔اخبار ریاست دہلی کے ایڈیٹر اور ممتاز سیکھ صحافی جناب سردار دیوان سنگھ مفتون نے اپنی کتاب ناقابل فراموش میں حضرت شاہ صاحب کا ذکر نہایت عقیدت بھرے الفاظ میں کیا ہے چنانچہ لکھتے ہیں۔دام سوموار کو صبح سپر نٹنڈنٹ میجر شاہ (یہ بزرگ بہت شریف - دیانتدار۔نیک اور مذہبی خیال کے بزرگ تھے قادیان کی احمدی جماعت کے پیشوا کے عزیزوں میں سے تھے۔قیدیوں کے بہت ہمدرد تھے مگر ان کی دماغی کیفیت کچھ ایسی تھی جسے فزیکل کہا جاسکتا ہے یعنی خیال آجائے تو قیدی کے لئے سب کچھ کر دیں اور خیال نہ آئے تو قیدی کی کسی خواہش کی پرواہ نہ کریں یہ ہمیشہ ہی میرے احساس کا خیال کرتے رہے " پریڈ میں تشریف لائے تو میں نے ان سے کہا پریس کی بجائے میری ڈیوٹی کیسی اور جگہ لگا دی جائے تو اچھا ہو میجر شاہ نے فوراً حکم دیا کہ میں اپنی رہائش والی جگہ پر ہی رہوں اور جو کام دینا ہو یہاں ہی دے دیا جائے “ سے (۲) اس زمانہ میں سپر نٹنڈنٹ کے عہدہ پر ایک بہت ہی نیک دل اور خدا ترس میجر وو حبیب اللہ شاہ تھے میجر شاہ پیشہ کے لحاظ سے ڈاکٹر تھے اور مذہبی اعتبار سے قادیان کے احمدی اور احمدیوں کے موجودہ پیشوا کے قریبی رشتہ دار۔آپ کو ولایت کے تعلیم یافتہ تھے اور ان کے گھر میں بھی یورپین بیوی تھیں مگر نیکی، پارسائی، نماز، روزہ کے اعتبار سے آپ ایک پکے مسلمان تھے " سے لے آپ کے حالات " تاریخ احمدیت جلد ہشتم ۲۳ پر درج ہیں ؟ کے ناقابل فراموش» از دیوان سنگھ مفتون طبع اول مارچ ۱۹۵۸ء ۲۵ ۵۳ ایضاً ۲۷۰۳۲۹