تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 168
۱۵۸ فصل سوم جلیل القدر صحابہ کا انتقال اس سال (۱۳۳۲ مش مطابق ۶۱۹۵۳ ) میں مندرجہ ذیل جلیل القدر صحابہ کا انتقال ہوا :- ۱ - حضرت مرزہ اکبر الدین احمد صاحب لکھنوی ( وفات ۵ در جنوری ۶۱۹۵۳ ) محترم سید ارشد علی صاحب لکھنوی کا بیان ہے :- 19 1 مرحوم خاکسار کے ماموں تھے اور احمدیت کی نعمت مجھے مرحوم ہی سے ملی تھی شاید ۱۹۰۱ء سے پہلے مرحوم نے بیعت کی تھی۔۔۔مرحوم کے احمدی ہونے کے مختصر حالات جوئیں جانتا ہوں یہ ہیں۔۱۹۰۱ ء سے پہلے مرزا کبیر الدین احمد صاحب مرحوم اور مرحوم کے چھوٹے بھائی مرزا حسام الدین صاحب جھانسی میں پولیس میں ملازم تھے وہاں ایک اوورسیٹر مشتاق احمد صاحب تھے انہیں کہیں سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصنیف ازالہ اوہام مل گئی مشتاق احمد صاحب شاعر اور علم دوست آدمی تھے اور مرحوم کے دوست تھے انہوں نے مرزا صاحب مرحوم کے پاس مولوی رحمت اللہ صاحب اور پادری فنڈر کی کتا بیں دکھی تھیں۔وہ یہ جانتے تھے کہ مرحوم کو ردعی است کا شوق ہے اس لئے انہوں نے ازالہ اوہام مرزا صاحب مرحوم کو دے دی " ازالہ اوہام کو پڑھنے کے بعد مرحوم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو عریضیہ لکھا اور بیعت کرلی۔مرحوم کے چھوٹے بھائی ایک مدت تک احمدی نہیں ہوئے تھے لیکن خدا کے فضل سے مرحوم کی تبلیغے سے وہ احمدی ہو گئے۔مرحوم کو تبلیغ کا جنون تھا۔مرحوم انجیلی طرز تحریرہ کے موجد تھے اور اس مخصوص رنگ میں لکھے ہوئے ان کے پرانے مضامین جو بدر تشخیز اور ریویو میں شائع شدہ ہیں انہیں پڑھ کر معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے کے احمدیوں نے تبلیے مبلغین کے ذریعہ سے نہیں کی بلکہ ان بزرگوں نے خود مبلغ ہونے کی حیثیت میں کی ہے یہی وجہ ہے