تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 169 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 169

۱۵۹ کہ ہم سے جدا ہونے والی یہ ہستیاں آج بھی ہمار سے لئے ایک عملی نمونہ ہیں اور ہم سے جدا ہونے کے بعد بھی یہ خدا کے بند سے ہمارے لیے ایک ایسا عملی نمونہ چھوڑ گئے ہیں جو تبلیغ اسلام کا ایک بہت بڑا گر ہے۔ایک مرتبہ یک مکرم جناب چودھری ظفر اللہ خان صاحب کی کوٹھی پر ممدوح سے باتیں کر رہا تھا دور این گفت گو میں چودھری صاحب نے فرمایا مرزا صاحب کیسے ہیں؟ میں نے کہا اچھے ہیں لیکن اب بہت بوڑھے ہونے کی وجہ سے سلسلے کے نوکر کارکنوں کی کم سنتے ہیں۔مکرم چو دھری صاحب نے گھرا کہ اور میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا یہ بہت قابل قدر لوگ ہیں جس زمانہ میں انہوں نے بیعت کی ہے وہ بڑا عجیب زمانہ تھا۔چو دھری صاحب کی اس روحانی کیفیت کا میرے اوپر بڑا گرا اثر ہوا اور اس دن سے یکی بالکل محتاط ہو گیا۔۱۹۱۲ء میں جب حضرت خلیفہ ایسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی لکھنو تشریف لائے تھے تو اس زمانہ میں مرزا صاحب مرحوم پر تعلقات کی وجہ سے خواجہ کمال الدین صاحب مرحوم کا اثر تھا لیکن حضرت صاحب کی زیارت کے بعد مرحوم نے حضور کی بیعت کر لی اور پھر کبھی پیغامی دوستوں کا نام نہ لیا۔مرزا صاحب مرحوم کی عمر 90 سال کے قریب تھی لیکن اتنی لمبی عمر میں بھی بڑے جواں ہمت ، ہنس مکھ، زندہ دل بخیر اور ایک خاص رنگ کے مہمان نواز تھے۔مرحوم کے پاس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دست مبارک سے تحریر کئے ہوئے کئی خطوط تھے جو اب شاید ہمیں مل بھی نہ سکیں لکھنڈ کے پرانے احمدی کسی نہ کسی رنگ میں مرحوم کی تبلیغ ہی سے احمدی ہوئے ہیں اور بیچ یہ ہے کہ لکھنو میں حدیت کے باغ کا وہ ایک قابل قدر بیج تھے یا اے حضرت قاضی محمد ظہور الدین صاحب اکمل نے آپ کی وفات پر لکھا:۔جب یکی بدر میں کام کرتا تھا تو مرزا صاحب مرحوم سے تعارف ہوا۔اُن دنوں وہ اپنی مخلصانہ پر جوش تبلیغی خدمات کی وجہ سے بہت پیش پیش تھے۔ریلو سے گارڈ تھے اس لئے سفر و حضر میں جہاں موقع پاتے تبلیغ فرماتے اور سب سے اول وفات مسیح منواتے تشخید الا ذہان اه هفت روزه بدر قادیان ۲۸ جنوری ۶۱۹۵۳ ص به