تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 164
انہیں معلوم تھا کہ جماعت سے وابستگان کے سلسلے میں اس کا نام نہیں ہے لیکن انہوں نے جن خیالات کا اظہار فرمایا اس میں اسلام اور دین محمد علیہ الصلوۃ والسلام کے لئے پتھی تڑپ ، پنجی " عقیدت اور پہنچی راہنمائی کے آثار نظر آرہے تھے ہم نے تنظیم اللہ کے بھروسے پر نکالا ہے اور ہم اس کو اللہ کے بھروسے پر سچائی کے راستوں پر چلانا چاہتے ہیں ہم نے جو لکھا خدا شاہد ہے یہ اس غرض سے نہیں لکھا کہ ہمیں جماعت احمدیہ سے یا مرزا صاحب سے چنداں مالی خواہشات نہیں بلکہ یہ خالصتا للہ ایک مخبر صادق اور ایک پیچھے رپورٹر کی حیثیت سے ہم نے ان حالات کو لکھا ہے۔حضرت مرزا بشیر الدین محمود نے خود فرمایا کہ اگر جماعت کے اندر ان کے امراء ورؤسا پیچھے اطلاق اچھی عادتوں اور تجھی اسلامی محبت سے مسلمانوں کے ساتھ ، دوستوں کے ساتھ اور ہمسائیوں کے ساتھ پیش آئیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہمارے اختلافات اور تنازعات ایک محبت ، اخلاق، مروت ملکی اور وطنی تعلقات کے سلسلے میں ایک بنیان مرصوص (نہ) ثابت ہوں لیکن آپ نے فرمایا کہ ہماری جماعت میں بھی اہل مغرض اشخاص کی کی نہیں ہے اور یکں چاہتا ہوں جو شخص بھی جماعت کے متعلق کوئی معلومات کرنا چاہیے اُسے میرے ساتھ ملاقات کا موقع دیا بجائے لیکن میں نے اکثر دیکھا ہے کہ ایسا نہیں کیا جاتا ہیں چاہتا ہوں کہ تم میں سلف الصالحین کی تقلید ہوا اور تم اپنے اختلاقی کو اسلام او مسلمانوں کی محبت کے راستے میں حائل نہ کرو۔اگر ہم حضرت مرزا بشیر الدین صاحب کے تمام اوصاف کو جو ساری اُمت کے متعلق ان کے دل میں ہیں بیان کریں تو اس کے لئے ایک بہت بڑے دفتر کی ضرورت ہے۔ے دفتر تمام گشت بپایان رسید عمر و همچنان در اول وصف تو مانده ایم" له سفر سندھ کے روح پرور خطبوں کا مفصل بیان ہو اک ۱۹۵۳ء کے خطبات جمعہ ایک نظر میں چاہے اب ان میں اس سال کے ان اطارات بارہ اب ذیل میں ان کا خلاصہ درج کیا جاتا ہے جو شائع شدہ ہیں۔ان خطبات کی تعداد ۲۷ بنتی ہے۔اخبار تنظیم پشاور مورخ ۱۲ جنوری ۱۹۵۲ء ص ۳ +