تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 163 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 163

۱۵۳ ہماری کوئی حرکت بھی دین کے خلاف نہیں ہونی چاہئیے۔آپ نے فرمایا پیچھے اور راستباز بنو، اللہ سے تعلق قائم کرو اور قرآن کو ہاتھ میں لو، خود عاقل بنو، اوروں کو قرآن کی نعمت سے مالا مال کرو۔آپ نے فرمایا جماعت کی طرف سے گیارہ زبانوں میں قرآن کریم کے ترجمے ہو چکے ہیں۔پانچ زبانوں میں ترجمے اور ہوتے ہیں جس کے لئے تمہارے مالی ایثار کی ضرورت ہے جس کیلئے تم ، تمہاری بیویاں اور بچے بچیاں اپنے دستکاری کاموں سے دو دو پیسے جمع کر کے چند سے دو۔آپ نے فرمایا دین کی خدمت اور اسلام کی اشاعت کے لئے ہر امیر و غریب احمدی مرد عورت کو اپنے ہاتھ سے روزانہ کچھ نہ کچھ کام کر کے اس کی آمد جماعت کو بھیجنی چاہئیے تا کہ جماعت کو تبلیغی فرائن کی انجام دہی میں مالی مجبوریاں ستیہ راہ نہ ہو سکیں۔آپ نے فرمایا مسلمانو ا محمد رسول اللہ کے پروگرام کی اشاعت میں جس قدر زیادہ سے زیادہ مالی حقبہ لو گے آپ کی دنیا اور دین اسی قدر سنورتے جائیں گے۔جب آپ کا سب کچھ اللہ اور اس کے رسول کے لئے ہو گا تو کوئی وجہ نہیں کہ اللہ اور اس کا رسول آپ کا نہ ہو۔آخر میں آپ نے دعا پر اپنے خطبے کو ختم کیا۔اسلام اور مسلمانوں کی سربلندی اور یک جہتی کے لئے دُعا مانگی۔تہمارے اپنے تاثرات ہمارے اپنے تاثرات یہ ہیں کہ حضرت مرز البشیر الدین صاحب محمود ایک بچے محمد ی سلمان ہیں ان کے دل میں اسلام کے لئے تڑپ اور محبت ہے۔وہ چاہتے ہیں کہ مسلمان خدا کی رسی قرآن کو مضبوطی سے پکڑیں اور ایک ہو جائیں۔ہم نے گولڑہ شریف کے موسوں میں بھی شرکت کی ہے۔تقریریں سنی ہیں۔قوالیاں سنی ہیں۔حسب مراتب مہمان نوازیاں دیکھی ہیں لیکن جو عملی تجاویز عملی کار کر دگی ملی تڑپ عملی نقل و حرکت عملی ولولہ ایک چھوٹی سی جماعت احمدیہ کے اندر ہے وہ ہم نے گولڑہ شریف کے جم غفیر میں بھی نہیں دیکھا۔ہم اگر یہ تجویز پیش کریں تو کون مانے گا کہ گولڑہ شریف ، سال شریف ، خواجہ حسن نظامی اور سب بزرگ مل کر ایک کا نفرنس منعقد کریں جس میں جماعت احمدیہ کے ساتھ ان باتوں کا تصفیہ کریں جو ما بہ الاختلاف ہیں اور پھر ایک متوازی شکل میں خدمت قرآن کریں ہم نے خود پانچ منٹ حضرت بشیر الدین صاحب محمود سے ملاقات کی۔انہیں معلوم تھا کہ یہ میرا مرید نہیں ہے۔