تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 162 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 162

۱۵۲ سے کافی کامیاب جلسہ تھا۔جلسہ کے آخری روز ۲۸ کو بعد از نماز ظہر حضرت مرز البشیر الدین صاحب محمود نے خطبہ مسنونہ کے بعد ارشاد فرمایا کہ ہمارے نبی کریم ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مگر کے دن اہل مکہ سے خطاب فرماتے ہوئے حضرت یوسف علیہ السلام کے ان الفاظ گرامی کو اپنی زبان مبارک سے دہرایا۔۔۔۔لا تثريب عليكم اليوم۔۔۔۔آپ نے فرمایا حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم نے جس دن فتح مکہ کا شاہانہ دربار منعقد فرمایا آپ جلوس آرائے میمنت لزوم تخت و تاج نبوت ہوئے تو آپ نے بعینہ انہی الفاظ مبارک سے اپنے بھائیوں کو معاف کیا جس طرح مصر میں حضرت یوسف علیہ السلام نے جلوس آرائے تخت مصر ہو کر اپنے بھائیوں کو اپنے الفاظ سے معاف فرمایا۔آپ نے فرمایا ہمارا آقا و مولیٰ سب نبیوں کا بادشاہ اور حسینان جہاں کا ملجا و ماری ہے۔وہ خلق عظیم کا مالک حسن یوسف بھی رکھتا ہے۔دم عیسی بھی رکھتا ہے۔ید بیا بھی رکھتا ہے۔وہ پچھلے اور آنے والے تمام بادشاہوں کا بادشاہ اور تمام نبیوں کا سرتاج ہے۔اللہ نے جو دینا تھا محمد کو دیا اور آئندہ جس نے جو لینا ہے محمد سے لے گا اس لئے تم پہ اللہ کی اطاعت اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اور اس کے اولوالامر کی اطاعت واجب ہے۔آپ نے فرمایا ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس وقت مقام ابراہیم پر کھڑے ہو کر اہل مکہ سے خطاب کیا کہ یا درکھو آج کے دن دین ابہ اہم کی فتح ہے۔کفر و شرک اپنی تمام نحوستوں کے ساتھ منہ چھپائے ہوئے ہے۔آپ نے فرمایا جو لوگ براہ راست میرے پاس پہنچیں دین اسلام کا اقرار کریں وہ معاف۔جو ابوسفیان کے گھر پناہ لیں کیونکہ وہ مسلمان ہو چکا ہے اور امان پا چکا ہے تو وہ بھی معاف۔جو گھروں میں کواٹر بند کر کے بیٹھ جائیں، فتنہ و فساد میں حصہ نہ لیں تو وہ بھی معاف۔اور جو ہمارے مؤذن بلال حبشی کے جھنڈے کے نیچے جمع ہو جائیں وہ بھی معاف ہے۔آپ نے فرمایا یہ تھا خلق عظیم سرورکون ومکاں۔اور یہ ہے اسو ہ حسنہ بھی عربی جس پر چل کہ ہم نے اپنے مستقبل کو دین اسلام کے سانچے میں ڈھالنا ہے۔آپ نے فرما یا ہم خدام دین محمد ہیں