تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 161 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 161

آپ نے فرمایا انبیاء علیہ الصلوۃ والسلام اپنے خدا پرستوں کے لئے آزادی کی جدوجہد کرتے رہے۔آپ نے فرمایا مجھے محسن ظن ہے کہ ہماری حکومت نے برطانیہ سے جو معاہدے کئے ہیں وہ درست ہوں گے۔آپ نے فرمایا جیسا کہ میرے علم میں لایا گیا ہے کہ امریکہ بغیر کسی شرط کے پاکستان کو فوجی امداد دے رہا ہے تو یہ ایک مستحسن فعل ہے جس پر امریکہ اور پاکستان کے تعلقات مضبوط ہوں گے اور اس تعلقات کی مضبوطی پر مجھے سب سے زیادہ خوشی ہے۔آپ نے فرمایا حکومت کی مشکلات آسان کرنے میں حکومت کی مدد کرو اور کمیونسٹ طبقوں کو افہام و تفہیم سے اسلام کے صحیح اصولوں پر لاؤ کیونکہ یہ مملکت پاکستان اسلام کی حکومت ہے اور جس کے اندر مسلمانوں کے لئے سوائے اسلام کے کوئی دوسرا رستہ ذیب نہیں دیتا۔آقائے دو جہان حضرت محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت مسلمان کا جزو ایمان سے مسلمان اول بھی محمد کا ہے اور اس کا ایمان بھی محمد کا ہے اور اس کا آخر بھی محمد کا ہے کیونکہ وہی شفیع المزنین و ہی ختم المرسلین اور وہی آخر الانبیاء ہے۔اس کے بعد آپ نے دعا فرمائی کہ بانی سلسلہ حضرت مرزا صاحب اور حضرت خلیفہ اول اور تمام وابستگان سلسلہ مرحومین کو اللہ تعالیٰ اپنے جو ا یہ رحمت میں جگہ دے اور ہم زندوں کو ان کے نقش قدم پر اسلام کی خدمت کی توفیق عنایت فرمائے۔دوسرا معركة الآرا خطية ربوه ۲۸ دسمبر بعد از نماز ظهر حضرت مرزا بشیر الدین محمود نے آخری عظیم الشان خطبہ ارشاد فرمایا جس نے سامعین کے ایمانوں میں ایک ولولہ پیدا کیا۔آپ نے حمد و نعت کے بعد شاہان مغلیہ کا ایک ریخی واقعہ بیان فرمایا جولال قلعہ سے بنگال، مدراس، کراچی اور اٹک تک تعلق رکھتا تھا۔آپ نے اس کے بعد فتح مکہ کا تاریخی واقعہ پیش کیا ہے " جماعت احمدیہ کا سالانہ جلیس حسب دستور اس دفعہ بھی جماعت احمدیہ پاکستان کا جلسہ سالانہ اپنے مرکزی مقام ربوہ (پنجاب) میں ۲۶ تا ۲۸ دسمبر ۱۹۵۳ء تین دن جاری رہا جو پروگرام، مقاصد اور حاضری کے لحاظ ه اخبار تنظیم پیشاور مورخه ۲ جنوری ۱۹۵۲ عرص