تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 140
اپنی اس عقیدت کا بر ملا اظہار کرتے رہتے ہیں یہ ان کی ایک بہت بڑی خوبی ہے اور یہ ایسی خوبی ہے جو ان کو دوسرے مذاہب سے قریب کر دیتی ہے کیونکہ یہ حقیقت ہے کہ اگر کوئی شخص میرے باپ کو اپنا باپ کہے تو یکیں اسے اپنا بھائی سمجھنے پر مجبور ہوں گا اور کوئی وجہ نہیں کہ کوئی شخص میرے آقا کو بزرگ کہہ رہا ہو تو یکیں اُس کے آقا کی تو ہین کا خیال کروں۔پس میرے بھائیو ! لیکن مرزا و احمد حسین صاحب گیانی کی اِس مہربانی کا جو انہوں نے گاؤں بہ گاؤں پھر کر مشری گورو گرنتھ صاحب کے نسخے تلاش کئے اور پھر اپنے سر پر اٹھا کر ربوہ پہنچائے اور پھر ربوہ سے قادیان لائے اور آج ہمارے حوالہ کر رہے ہیں شکریہ ادا کرتا ہوں۔یہ ایک حقیقت ہے کہ مشری گرنتھ صاحب پاکستان میں جب لوگوں کے پاس پڑے تھے گو ان لوگوں نے انہیں سنبھال کر رکھا ہوا تھا مگر ان کی حقیقی عزت وہاں نہیں ہو سکتی تھی۔گیانی صاحب نے ان کو حقیقی عزت کی جگہ پر پہنچانے کے لئے بہت محنت اور محبت سے کام لیا ہے میں اس کے لئے پھر اپنی طرف سے اور قادیان کی سیکھ سنگت کی طرف سے ان کا اور احمدیہ جماعت کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔پاکستان سے آنے والے احمدی بھائیوں کے جتھہ کے سالار چوہدری اسد اللہ خان صاحب سے بھی عرض کرتا ہوں کہ آپ لوگوں کا رویہ اور AT1T42 نہایت عمدہ ہے۔آپ بھائیوں نے ہمارے ساتھ محبت اور رواداری کے رشتہ کو استوار کرنے کے لئے جو اقدامات کئے ہیں نہیں انہیں بنتظر تحسین دیکھتا ہوں۔اس کے بعد میں قرآن پاک کے دو نسخے جو اس وقت میرے پاس ہیں اور جن میں سے ایک میرے چچا سردار کہ تار سنگھ صاحب کے پاس اور دوسرا نسخہ سردار سوہن سنگھ بھائیر کے پاس بالکل محفوظ حالت میں پڑے تھے اور یہ دونوں آدمی صوفی قسیم کے بزرگ ہیں اور اسی لئے انھوں نے قرآن پاک کے نسخوں کو اتنے سالوں سے سنبھالے رکھا ہے یکیں یہ دونوں نسخے نہایت عزت اور احترام کے ساتھ چوہدری اسد اللہ خاں صاحب کی خدمت میں پیش کرتا ہوں۔اس کے علاوہ یکی قادیان کی سیکھ سنگت کی طرف سے مرزا و احمد حسین صاحب گیانی کی خدمت میں شکریہ کے ساتھ بطور سروپا ایک دستانہ اور اکیس دمڑے ( روپے پیش کرتا ہوں یا یہ کہ کر گیانی را به سنگه هاب نجرز نے قرآن کریم کے دونوں ننھے چوہدری اسد اللہ خاں صاحب کے ہاتھوں میں دیئے اور دستار