تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 139 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 139

۱۲۹ رسول عربی کا پاک نمونہ) اس جلسہ کا ایک قابل ذکر واقعہ یہ ہے کہ گیانی مرزا و احد حسین صاحب نے اپنی تقریر کے بعد بتایا کہ وہ پاکستان سے شری گورو گرنتھ صاحب کے چار نسخے اور ننکانہ صاحب کی خاک (چرن دھوڑ) اور پوتر پانی (امرت) لائے ہیں۔پھر انہوں نے امرت کائین با واہرکشن سنگھ صاحب پرنسپل کالج قادیان کو پیش کیا تو معزز سکھ اصحاب نے خوشی سے بے اختیار نعرے بلند کئے اور گیانی را بجے سنگھ صاحب فخر جنرل سیکرٹری سنگھ سمبھا و وائس پریذیڈنٹ میونسپل کمیٹی قادیان نے صد یہ اجلاس (حضرت مولانا ابو العطاء صاحب جالندھری سے اجازت لے کر اپنے جذبات محبت کا اظہار درج ذیل الفاظ میں کیا :- مرزا واحد حسین صاحب گیانی نے اپنے ساتھ شری گورو گرنتھ صاحب کے چار نسخے لا کر اور شیری ننکانہ صاحب سے امرت (پوتر پانی لاکر اور ساتھ ہی شری ننکانہ صاحب کے گوردوارہ کے قدموں کی خاک پاک لا کہ ہم پر جو احسان کیا ہے ہم اس کے لئے گیانی صاحب کے ممنون ہیں اور دلی جذبات سے ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔مرزا واحد حسین صاحب نے رشتہ محبت کو استوار کرنے اور رواداری اور تعلقات کو بڑھانے کے لئے جو نیک کوشش کی ہے ہم دل سے اس کی قدر کرتے ہیں اور اس کا خیر مقدم کرتے ہیں اور ہماری یہ خواہش ہے کہ ہمارا یہ باہمی رواداری کا جذبہ دن بدن ترقی کرے اور ہمارے تعلقات بہتر ہوتے چلے جائیں۔مجھے یہ کہتے ہوئے جھجک محسوس نہیں ہو رہی بلکہ میں انبساط کے ساتھ کہہ رہا ہوں کہ ہم جیتنگ جماعت احمدیہ سے دور دورہ رہے اور کبھی بھی ان کے کیریکٹر کا قریب سے مطالعہ کرنے کا موقعہ ہمیں نہ ملا ہمارے دلوں میں احمدی بھائیوں کے خلاف نفرت کے جذبات تھے اور ہم ان لوگوں کے متعلق کئی قسم کی بدگمانیوں میں مبتلا تھے مگر جب ہم نے قریب سے ان کا مطالعہ کیا تو ہم تسلیم کرنے پر مجبور ہو گئے کہ ان لوگوں کے اندر محبت، پیار اور اپنائیت کا بہت بڑا جذ بہ موجود ہے اور ہم اس سے پہلے ان کے متعلق جو بد گمانیاں اپنے دلوں میں رکھتے تھے وہ خلاف حقیقت تھیں۔یکی محسوس کرتا ہوں کہ ان کا رویہ اور یہ عقیدہ کہ یہ دنیا کے ہر مذہب کے پیشوا اور دنیا کے ہر حصہ میں وقتاً فوقتاً پیدا ہونے والے نبیوں اور اوتاروں کو عقید تا قابل احترام سمجھتے ہیں اور اپنے جلسوں میں