تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 141
اور روپے گیانی و احمد حسین صاحب کو دے دیئے ) گیانی نخر صاحب کے محبت بھرے جذبات کے اظہار کے بعد جناب سردار ہر چرن سنگھ صاحب باجوہ نے بھی اپنے جذبات محبت کا اظہار کیا کہ : یکی رواداری کے اس خوش کن منظر اور اقدام سے بہت خوش ہوا ہوں۔مجھے افسوس ہے کہ آج ہم تقسیم ملک کی وجہ سے شری گورو ننکانہ صاحب کے درشنوں سے محروم ہو گئے ہیں حالانکہ یہاں سے دلوں میں ایک تڑپ ہے کہ ہم اس پوتہ اور مقدس جگہ کو بار بار دیکھیں۔میں سمجھتا ہوں کہ یہ ہمارے ہی اعمال کی شامت ہے کہ ہم مشری ننکانہ صاحب کے درشنوں سے محروم ہو گئے ہیں اس لئے میں شہری و انگورو سے پرارتھنا کرتا ہوں کہ ہم سے جو غلطیاں ہوئیں اور گناہ سرزد ہوئے آپ ہمارے گناہوں کو معاف فرمائیں اور ہمیں شری ننکانہ صاحب کی زیارت اور یا ترا کرائیں۔اس کے بعد میں اپنے ہموطن بھائیوں کی طرف سے جو اس وقت گویا بے وطن ہیں گیانی و احمد حسین صاحب کا شکریہ ادا کرتا ہوں ! اس کے بعد جماعت احمدیہ کی طرف سے گرنتھ صاحب کے دو نسخے عزت و احترام کے ساتھ پیش کئے گئے بیلے ا جلسہ سالانہ کے سب انتظامات تسلی بخش تھے جو صا حبزادہ مرزہ اوسیم احمد صاحب جلسہ کے دیگر کوائف افسر علیسہ سالانہ کی نگرانی میں سر انجام پائے۔آپ کے نائب مولوی برکت علی صاحب اور افسر ضیافت چو ہدری بدر دین صاحب عامل تھے۔ہندوستانی مهمان جن میں ریاست کشمیر کے مہمان بھی شامل تھے جلسہ کے انعقاد سے کئی روز بیشتر آنے شروع ہو گئے تھے۔پاکستانی قافلہ جس کے امیر جناب چوہدری اسد اللہ خان صاحب بیرسٹرایٹ لاء لاہور تھے مورخہ ۲۵ دسمبر کو ساڑھے دس بجے شب قادیان وارد ہوا درویشان قادیان اور ہندوستانی مہمانوں نے اس کا استقبال نعرہ ہائے تکبیر، احمدیت زندہ باد، اسلام زندہ باد اور حضرت امیر المومنین زندہ باد کے پر نہ ور نعروں سے کیا۔پاکستانی زائرین جن میں علاوہ درویشوں کے لواحقین کے جماعت ہائے پاکستان کے بعض معزز اراکین اور مرکزی اداروں کے بعض کارکنان بھی شامل تھے کی تعداد ایک سو اسی تھی کہ ان کے علاوہ لے ہفت روزه بلد قادیان ، جنوری ۶۱۹۵۴ م که فرست قافله پاکستان روزنامه المصلح ، کراچی + ۱۹ر دسمبر ۱۹۵۳ ء میں شائع شدہ ہے اور ضمیمہ کتاب میں بھی منسلک ہے :