تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 125 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 125

ان سے اغماض کرنے کی دلیل تھی۔اب وہ ان لوگوں کے سامنے یہاں بیٹھے ہیں جنہیں وہ قادیان سے آنے پر سلامت کرتے تھے تو انہیں کس قدر شرم آ رہی ہو گی اور ان کی طبیعت پر یہ بات کسی قدرگراں گذر رہی ہوگی کہ وہ لوگ جنہیں وہ کہتے تھے کہ تم بیوقوف ہو کہ قادیان سے باہر جا رہے ہو اب وہ انہیں دیکھ کر کہیں گے کہ آپ کہاں آگئے۔ہر حال جس طرح یہ صدمہ جماعت احمدیہ کو پہنچا ہند وستان اور پاکستان کی کسی اور جماعت کو نہیں پہنچا۔پھر ہم نے یہ تجویز کی کہ ہم ایک نیا مرکز بنائیں۔مجھے خدا تعالیٰ نے بتا دیا تھا کہ ہمیں نئے مرکز کی ضرورت ہوگی اور ایک رویا میں مجھے صاف طور پر نظر آیا تھا کہ ہم ایک نئی جگہ پر اپنا مرکز بنا رہے ہیں۔اس وقت بھی اسی اثر کے نیچے یہ چہ میگوئیاں شروع ہوئیں کہ ہمیں نئے مرکز کی کیا ضرورت ہے۔وہ لوگ ہمارے ساتھ قادیان سے نکل تو آئے تھے لیکن ابھی ان کے اندر یہ خیال باقی تھاکہ یہ چار پانچ ماہ یا زیادہ سے زیادہ ایک سال کی بات ہے اس کے بعد ہم قادیان واپس پہلے جائیں گے لیکن میرا نقطۂ نگاہ یہ تھا کہ چاہیے چار ماہ کے لئے ہو یا چار دن کے لئے ہمیں خدا تعالیٰ کے دین کی اشاعت کے لئے ایک مرکز قائم کرنا چاہیے۔تم ریل کے تین چار گھنٹے کے سفر میں بھی آرام چاہتے ہو اور سیٹ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہو تو کیا وجہ ہے کہ دین کی اشاعت اور دین کے آرام کا خیال نہ رکھا جائے۔اس کے لئے مرکز کی تلاش کیوں نہ کی جائے۔ایک پراگندہ جماعت اشاعت دین کا کام نہیں کرسکتی۔جو جماعت یہ خیال کرتی ہے که دس بارہ ماہ اشاعت دین کا کام نہ ہوا تو کیا ہوا وہ جماعت جیتنے والی نہیں ہوتی شکست خورد؟ ذہنیت کی مالک ہوتی ہے۔کام کرنے والی اور اپنے مقصد کو پورا کرنے والی جماعت وہ ہوتی ہے جو کہتے کہ ہمارا ایک دن بھی ضائع نہیں ہونا چاہئیے۔پھر میں نے ان لوگوں کو بتایا کہ دیکھو اتنی بڑی مصیبت ایک دو دن کے لئے نازل نہیں ہوا کرتی یہ ایک وقت چاہتی ہے۔جب کبھی خدا تعالیٰ نے کسی مصیبت کو جلدی سے ملا دینا ہو تو وہ اسی نسبت سے مصیبت کو نازل کرتا ہے۔دیکھو جب کسی کا باپ مرتا ہے ، ماں مرتی ہے یا کوئی اور رشتہ دار مرتا ہے ، جو خاندان کا نگران ہوتا ہے تو کتنی آفت آجاتی ہے۔اب خدا تعالیٰ نے یہ قانون نہیں بنایا کہ کوئی صبح مرسے تو شام کو جی اُٹھے بلکہ اس کا یہ قانون ہے کہ وہ اگلے جہان میں زندگی پاتا ہے اور اس کے وہ رشتہ دار جو اس سے ملنے کی تمنا رکھتے ہیں وہ بھی ایک لیے عرصہ کے بعد وفات پا کہ اس سے ملتے ہیں پہلے نہیں۔رسول کریم