تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 124 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 124

114 کے ساتھ سازش کر رہے ہیں اور اس کے ساتھ حُب الوطنی کے خلاف تعلقات قائم کئے ہوئے ہیں ان کا یہ اعتراض ایسا ہی بیہودہ اور ناپاک ہے جیسے کوئی کہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نعوذ باللہ کفار مکہ سے سازش کر کے مگر واپس آنا چاہتے تھے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب خدا نے کہا تھا کہ میں تمہیں مگر واپس لاؤں گا تو اِس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ تم سازش کے ساتھ یا منت سماجت کر کے اور ذلیل ہو کر جاؤ گے بلکہ یہ کہا تھا کہ تم کامیاب و کامران ہو کر مکہ واپس جاؤ گے۔پس اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مکہ واپس جانا آپ کی کامیابی و کامرانی اور عزت کی دلیل ہے تو یہی بات آپ کے خادموں کے لئے بھی عزت اور ان کے مقرب ہونے کی دلیل ہے۔خدا تعالیٰ ہمیں اِس طرح قادیان واپس نہیں لے جائے گا کہ ہم دیانت اور امانت اور حب الوطنی کے جذبات کو ترک کر کے وہاں جائیں بلکہ وہ ہمیں اس طرح وہاں لے جائے گا کہ ہم دین اور وطن اور حکومت کے لئے عزت کا موجب ہو کر وہاں جائیں گے۔اس قسم کے معترض محض تنگدلی عناد اور تعصب کی وجہ سے اعتراض کرتے ہیں اور ان حقائق کے ماننے سے انکار کرتے ہیں جو ایک دفعہ انہیں کئی دفعہ الہی جماعتوں کے ذریعہ دنیا میں پیش کئے جاچکے ہیں اور جب یہ حقائق کئی وقعها الہی جماعتوں کے ذریعہ دنیا میں پیش کئے جاچکے ہیں تو ان کے بارہ میں دھوکا نہیں کھایا جاسکتا۔پس یہ ایک دھکا تھا جو ہماری جماعت کے لئے پہلے سے مقدر تھا۔اس وقت جماعت کے بعض لوگ ان لوگوں کو جنہیں میں قادیان سے باہر بھجوا رہا تھا مل کر یہ کہتے تھے یہ تو چند دن کی بات ہے تھوڑے ہی دنوں میں یہ حالت دور ہو جائے گی ورنہ یہ ہونہیں سکتا کہ قادیان ہمارے ہاتھ سے چلا جائے۔پھر ان چند دنوں کے لئے اس قدر پریشانی کی کیا ضرورت ہے، قادیان کو چھوڑ کر جانا ایمان کی کمی کی علامت ہے مگر آج یہاں وہ لوگ بھی بیٹھے ہیں جو نظام کے ماتحت قادیان سے باہر آنے والوں پر معترض تھے وہ اُس وقت قادیان سے باہر آنا کئی ایمان کی علامت قرار دیتے تھے اور اب وہ خود بھی یہاں موجود ہیں۔گویا جو بات میں نے بتائی تھی وہ صحیح تھی اور جس امر کی طرف ان کا ذہن جا ر ہا تھا وہ غلط تھا۔لازمی طور پر وہ لوگ جو آنے والوں کو کہتے تھے کہ تم کہاں جارہے ہو یہ تو چند دن کی پریشانی سے قادیان ہمارے ہاتھ سے نہیں جا سکتا غلطی پر تھے اور ان کی یہ بات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہاموں کی تشریح کو نہ سمجھنے او