تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 126 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 126

119 صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کی تو سات آٹھ سال کے بعد مگر فتح ہوا اور اس کے بعد بھی عضد اتعالے نے ایسے سامان کر دیئے کہ آپ مکہ میں نہیں بسے بلکہ صحابہ نے تو نبوت کے پانچویں سال ہی حبشہ کی طرف ہجرت کی تھی جس کے معنی یہ تھے کہ وہ ۱۶ سال تک وطن سے الگ رہے پھر کہیں جا کر مکہ فتح ہوا۔مگر جب مکہ فتح ہوا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر بھی مدینہ کو ہی اپنا مرکز بنائے رکھا گویا ان کے لئے ہمیشہ کے لئے ہجرت ہو گئی۔تو میں نے ان لوگوں کو سمجھایا کہ یہ تین چار ماہ کی بات نہیں اور اگر یہ تین چار ماہ کی بات بھی ہو تب بھی جب تم تھوڑی دیر کے لئے بھی اپنے لئے آرام چاہتے ہو تو خدا تعالیٰ کے دین اور اشاعت کے لئے سالوں انتظار کیوں کیا جائے بہر حال ایک طبقہ کی مخالفت کے باوجود جماعت نے یہی فیصلہ کیا کہ میری رائے ہی ٹھیک ہے اور ہمیں مرکز بنا نا چاہیئے۔چنانچہ یہ جگہ جو میری بعض پرانی خوابوں سے مطابقت رکھتی تھی مرکز کے لئے تجویز کی گئی۔جو لوگ یہاں بیٹھے ہیں ان میں سے تھوڑے ہی ہیں جنہوں نے اس جگہ کو ابتدائی حالت میں دیکھا اکثر نے اسے ابتدائی حالت میں نہیں دیکھا۔ابتدائی حالت میں یہاں بسنے والے غالباً ۳۵ آدمی تھے ان کے لئے سڑک کے کنار سے خیمے لگائے گئے تھے جہاں اب بھی بعض کمرے بنے ہوئے ہیں۔ان میں ابتداء لنگر بنا تھا اب وہ سٹور کا کام دیتے ہیں۔ایک سال کے قریب وہاں گزارا۔پھر لاکھوں روپے خرچ کر کے ہم نے عارضی مکان بنائے تا ان میں وہ لوگ بہیں جنہوں نے شہر آباد کرنا ہے۔پھر لاکھوں روپے خرچ کر کے یہ بلڈنگ نہیں جو اب تمہیں نظر آتی ہیں۔اس عظیم الشان صدمہ کے بعد جماعت نے اتنی جلدی یہ جگہ اس لئے بنائی تاکہ وہ مل کر رہ سکیں۔اکٹھے رہ کر مشورے کر سکیں۔سکول اور کالج بنائیں تاکہ اُن کی اولاد تعلیم حاصل کرے۔اس کے مقابلہ میں وہ لوگ جن کو اتنا صدمہ نہیں پہنچا ان میں سے کوئی جماعت بھی اپنا مرکز نہیں بنا سکی۔بعض معترض کہتے ہیں کہ ہمارا یہاں ایک علیحدہ جگہ لیس جانا ملک سے بیوفائی کی علامت ہے۔یہ نہایت ہی احمقانہ خیال ہے کیونکہ ایک قسم کے کام کرنے والوں کے لئے اکٹھا رہنا ضروری ہوتا ہے چاہے وہ محب الوطنی میں سب سے زیادہ بڑھے ہوئے کیوں نہ ہوں۔دوسرے شہروں میں جاؤ وہاں تم دیکھو گے کہ تمام نیچہ بند اکٹھے رہتے ہیں۔نائی اکٹھے رہتے ہیں۔دھوبی اکٹھے رہتے ہیں۔موچی اکٹھے رہتے ہیں کیونکہ انہیں اپنے کام کے سلسلہ میں ایک دوسرے