تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 98
۹۳ کہ اسے رعایت سے ترقی دی گئی ہے تو وہ اس عہدے سے استعفے دے دے کیونکہ اس سے زیادہ شرمناک بات اور کوئی نہیں ہو سکتی کہ انسان کسی اور کی سفارش سے ترقی حاصل کرلے۔شیخ سعدی نے کہا ہے۔" حقا که با عقوبت دو نرخ برابر است رفتن بیائے مروئی ہمسایہ در بہشت خدا کی قسم ایسی جنت دوزخ کے برابر ہے جس میں انسان کسی ہمسایہ کی سفارش سے داخل ہوا ہو۔اگر کسی شخص میں اس کام کی اہلیت نہیں پائی جاتی جو اس کے سپرد کیا گیا ہے تو اسے سمجھے لینا چاہیئے کہ اس عہدہ کے لئے اس کی سفارش رعایتی طور پر کی گئی ہے اور اس کا فرض ہے کہ اگر اس کے اندر غیرت پائی جاتی ہو تو وہ استعفیٰ دے کر الگ ہو جائے۔پس تم اپنی عقل محنت اور قربانی سے یہ بات ثابت کر دو کہ تم اپنے افسران اہم ملبیسوں اور ہم عمروں سے بہتر ہو اگر تم اس مقام کو حاصل کر لو تو لازمی طور پر تم اس الزام سے بچے جاؤ گے کہ تمہیں کسی رعایت کی وجہ سے ترقی دی گئی ہے۔میں کراچی گیا تو مجھے بتایا گیا کہ ایک احمدی کے متعلق لکھا گیا کہ اسے ملازمت سے برطرف کر دیا جائے کیونکہ وہ نا اہل ثابت ہوا ہے لیکن حکومت نے بعض انصاف کے قواعد بھی بنائے ہوئے ہیں تا کہ لوگ ایک دوسرے پر ظلم نہ کریں ان میں سے ایک قانون یہ بھی ہے کہ جب کوئی آفیسر اپنے ماتحت کے متعلق اس قسم کے ریمارک کرے تو اس کا رکن کو اس محکمہ سے تبدیل کر کے کسی دوسری جگہ مقررہ کیا جائے اور اگر وہاں بھی اس کا افسر اسی قسم کے ریمارکس کرے تو اسے نکال دیا جائے چنانچہ اس احمدی کے متعلق جب افسر نے یہ سفارش کی کہ اسے نکال دیا جائے یہ نا اہل ہے تو حکومت نے اسے ایک اور محکمہ میں بھیج دیا۔یہ ایک مرکزی ادارہ تھا ۶ ماہ یا سال کے بعد جب یہ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ اس کے متعلق کیا کیا جائے تو اتفاقی طور پر اس کی تبدیلی کے احکام بھی جاری ہو گئے اس پر ادارے نے لکھا کہ اس کے بغیر ہمارا کام نہیں چل سکتا اسے تبدیل نہ کیا جائے۔اعلیٰ آفیسروں نے لکھا یہ عجیب بات ہے کہ اس کا ایک آفیسر تو کہتا ہے کہ یہ نا اہل ہے اسے ملازمت سے برطرف کر دیا جائے اور دوسرا آفیسر کہ رہا ہے کہ اسی نے آکر ہمارا کام سنبھالا ہے ہر حال چونکہ ہم نے فیصلہ کرنا ہے کہ شخص اہل ہے یا نا اہل اس لئے اس کی تبدیلی کے احکام ترک نہیں