تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 99 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 99

۹۴ کھتے چنانچہ اسے وہاں سے تبدیل کر دیا گیا اور کچھ عرصہ کے بعد اس تیسرے آفیسر سے اس کے متعلق رپورٹ طلب کی گئی اُس نے لکھا کہ میں نے اپنی پاکستان کی پانچ سالہ سروس میں اس قابلیت اور ذہانت کا آدمی نہیں دیکھا۔چنانچہ اعلیٰ افسروں نے پہلے افسر کے ریمارک بدلے اور کہا کہ یہ شخص ترقی دئے جانے کے قابل ہے۔غرض یہ بالکل غلط ہے کہ احمدیوں کو رعایتی طور پر شہد سے دئے جاتے ہیں لیکن اگر تمہیں کسی نے اہل سمجھ کر بھرتی کر لیا ہے اور وہ بھرتی کرنے والا احمدی ہے یا غیر احمدی۔اور اس پر الزام لگ رہا ہو کہ اس نے تمہاری نا جائز حمایت کی ہے تو کیا تم میں اتنی غیرت بھی نہیں کہ اس نے تم پر جو احسان کیا ہے تم اس کا بدلہ اتارو اور اس کی عزت کو بچاؤ۔اس کا صرف ایک ہی ذریعہ ہے اور وہ یہ کہ تم ملک اور قوم کی اتنی خدمت کرو اتنی قربانی اور ایثار کرو کہ ہر ایک شخص یہی کہے کہ تم سے کوئی رعایت نہیں کی گئی بلکہ سفارش کرنے والے نے تمہاری سفارش کر کے اپنی دانائی کا ثبوت دیا ہے کیونکہ اس نے اس شخص کو چنا ہے جس کے سوا اور کوئی مستحق ہی نہیں تھا۔پھر یکی کہوں گا کہ اگر تم خدمت خلق کرتے ہو تو تمہیں اس کے مفید طریق اختیار کرنے چاہئیں میں نے کراچی کی رپورٹ شنی ہے وہ نہایت معقول رپورٹ تھی۔میرے نزدیک وہ رپورٹ تمام مجالس تک پہنچانی چاہیئے تا کہ وہ اس سے سبق حاصل کریں۔یہاں رپورٹوں میں عام طور پر یہ درج ہوتا ہے کہ اتنے لوگوں کو رستہ بتایا گیا حالانکہ یہ نہایت ارٹی اور معمولی نیکی ہے اور ایسی ہی بات ہے جیسے کہتے ہیں کہ کسی نے اپنی ماں کو پنکھا جھلتے پر ایک ریچھ کو مقرر کیا۔اس کی ماں بیمار تھی۔مریضہ پر ایک مکھی بیٹھ گئی ریچھ نے ایک پتھر اٹھا کر اس مکھی پر دے مارا جس سے وہ مکھی تو شاید نہ مری لیکن اس کی ماں مرگئی۔یہ کوئی خدمت نہیں ہے جیسے بڑے فخر کے ساتھ خدمت خلق کا کام قرار دیا جاتا ہے تم وہ کام کرو جو ٹھوس اور نتیجہ خیز ہو اور اس کے لئے خدام الاحمدیہ کو اچھی کی رپورٹ بہترین رپورٹ ہے جو تمام مجالس میں پھیلانی چاہئیے تا انہیں معلوم ہو کہ انہوں نے کس طرح خدمت خلق کا فریضہ سر انجام دیا۔میں تمہیں اس کا چھوٹا سا طریق بتاتا ہوں اگر تم میں جوش پایا جاتا ہے کہ تم ملک اور قوم کے مفید وجود نبو تو تم اس پر عمل کر و۔اس وقت جو خدام حاضر ہیں ان میں سے جو لوگ تجارت کا کام کرتے ہیں وہ کھڑے ہو جائیں (حضور کے اس ارشاد پر چالیس غدام