تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 97 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 97

۹۲ اس کو جلدی سمجھ لیتے ہیں اور اگر انہیں دوسرے کو جھوٹا کہنے کی جرات نہ ہو تو وہ کم از کم اپنے دلوں میں یہ بات ضرور لے جاتے ہیں کہ فلاں شخص جھوٹا ہے اور بنچ ایک ایسی نہیں ہے کہ منہ پر کوئی شخص پیچھے انسان کو بچا کہے نہ کہے وہ اپنے دل پر یہ اثر لے کر جاتا ہے کہ فلان شخص سچا اور راستباز ہے۔اگر خدام الاحمدیہ یہ کام کرلیں کہ ان کے اندر سچائی کا جذبہ پیدا ہو جائے تو ان کی اخلاقی برتری ثابت ہو جائے گی اور کسی شخص کو ان پر حملہ کرنے کی جرأت نہیں ہوگی ہر شخص یہی سمجھے گا کہ انہیں ذلیل کرنا پیچھے کو ذلیل کرتا ہے اور کوئی قوم یه برداشت نہیں کر سکتی کہ بچے کو ذلیل کیا جائے۔پھر محنت کی عادت ہے۔دنیا میں تمام ترقیات محنت سے ملتی ہیں بعض لوگ کہتے ہیں کہ احمدیوں کو رعایت‎ عمد سے مل جاتے ہیں اگر تم کام میں مست ہو گے تو سننے والوں کو اس بات کا یقین ہو جائے گا اور وہ مجھیں گے کہ انہیں عہدے محض رعایت کی وجہ سے ملتے ہیں ورنہ ان میں کام کرنے کی قابلیت موجود نہیں۔لیکن اگر وہ دیکھیں کہ احمدی جان مار کر کام کرتے ہیں اور حکومت اور ملک کو اتنا فائدہ پہنچاتے ہیں جتنا فائدہ دوسرے لوگ نہیں پہنچاتے تو ہر ایک شخص کو یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ یہ کہنا کہ احمدیوں کو محمد سے رعایتاً دسے دیئے جاتے ہیں غلط ہے۔ہم اس اعتراض کا یہی جواب دیتے ہیں کہ تم وہ آدمی لاؤ جس کو بطور رعایت کوئی عہدہ ملا ہو۔فرض کرو کوئی احمدی دیانت سے کام کر رہا ہے وہ ملک اور قوم کی خیر خواہی کر رہا ہے اور اس کا طریق عمل اور اس کی مثل اور اس کے کاغذات اس بات کی شہادت پیش کرتے ہیں کہ وہ اپنے ہم جلیسوں ، ہم عمروں اور ہم عمروں میں سب سے بہتر کام کرنے والا ہے اور مخالف اس کا نام لے کر کہے کہ فلاں کو عمدہ بطور رعایت ملا ہے تو اس کا ریکارڈ اس اعتراض کو دور کر دے گا لیکن اگر تمہار سے کام کا ریکارڈ اچھا نہیں اور معترض تمہارا نام لے تو ہمارے لئے اس اعتراض کا جواب دینا مشکل ہو جائے گا۔پس تم اپنے اندر محنت اور دیانتداری پیدا کرو تا کہ تم پر کوئی اعتراض ہی نہ کر سکے کہ تمہیں رعایتی ترقی دی گئی ہے بلکہ میں تو یہاں تک کہوں گا کہ اگر تم میں سے کسی کو یہ نظر آتا ہو