تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 86 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 86

Al حضرت مصلح موعود کے ورود ربوہ کے بعد پرائیویٹ سیکرٹری صاحب د خلیفه ای الثانی پرائیویٹ سیوری صاحب حضرت علی یاسین کی طرف سے کو الف سفر کا بیان اور شکریہ نے اصل میں سفر سندھ کے کوائف پر دو کوائف مختصر نوٹ شائع کئے جن میں جماعت ہائے سندھ و پنجاب بالخصوص جماعت احمدیہ کراچی کے مظاہرہ اخلاص و محبت کا مختصر مگر پر کیف الفاظ میں نقشہ کھینچا اور ان کا شکریہ ادا کیا چنانچہ لکھا:۔" حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنے اہل بیت اور خدام کے ہمراہ 9 ار اگست سے ۳۰ اگست تک کراچی میں قیام فرما رہے۔اس عرصہ قیام میں جماعت احمدیہ کراچی کے مخلصین نے جس اخلاص اور فداکارانہ روح کا مظاہرہ کیا اور جس طرح رات دن انہوں نے حضور اور حضور کے اہلِ بیت کی خدمت کے لئے اپنے آپ کو وقف رکھا ایک نہایت ہی خوشکن اور ایمان افزاء نظارہ تھا۔خدام اور انصار دونوں اپنے اپنے فرائض کی بجا آوری میں شب و روز مشغول رہے اور انہوں نے حضور کی تشریف آوری سے زیادہ سے زیادہ مستفیض ہونے کی ہر ممکن کوشش کی چنانچہ اس عرصہ میں کئی قسم کی تقاریب پیدا کی گئیں جن میں حضور شریک ہوئے اور سینکڑوں لوگ حضور کے کلمات طیبات سے مستفیض ہوئے۔جماعت احد یہ کہ اچھی کی خوش قسمتی تھی کہ اس دفعہ حضور ایدہ اللہ نے وہاں عید الا ضحیہ منانے کا فیصلہ فرمایا۔چنانچہ اور اگست کو سب سے پہلے عید الا ضحیہ کے خطبے کے ذریعہ ہی حضور نے جماعت سے خطاب فرمایا۔اس کے بعد خطبہ جمعہ میں حضور نے مہاجرین کی آنکھوں دیکھیں حالتِ زار کی کیفیت بیان فرماتے ہوئے حکومت کو تو بہ دلائی کہ اسے ان کی رہائش کا خاطر خواہ انتظام کرنا چاہیئے۔اس کے بعد ایک خاص تقریب میں حضور نے خدام الاحمدیہ کہ اچھی سے احمدیہ ہال میں خطاب فرمایا۔اسی طرح حضور نے مستورات میں بھی ایک تقریر فرمائی اور پھر ۲۸ اگست کو حضور نے مارٹن روڈ کی مسجد احمدیہ میں خطبہ ارشاد فرمایا۔ان تقاریب کے علاؤ دو دفعہ حضور کو بیچے گزاری ہوٹل میں عصرانہ دیا گیا جس میں حاضرین کی درخواست پر حضور نے ایک دفعہ اسلام اور کمیونزم پر اور دوسری دفعہ حقیقی اسلام کے موضوع پر روشنی ڈالی۔خان ضیاء الحق خان صاحب ڈرگ روڈ اور سردار ممتاز احمد خان صاحب مالیر کینٹ کی