تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 87
طرف سے بھی ۲۸ اگست کو عصرانہ پیش کیاگیا جہاں حضور نے قریبا نصف نصف گھنٹہ تقریر فرمائی۔مغرض اسی قلیل عرصہ قیام میں حضور کی تشریف آوری سے جس قدر زیادہ سے زیادہ فائدہ اُٹھایا جا سکتا تھا اس قدر جماعت کراچی نے پوری کوشش کی اور مردوں عورتوں اور بچوں سب نے اپنے اپنے اخلاص کا قابل رشک مظاہرہ کیا ضیافت سے تعلق رکھنے والے انتظامات بھی قابل اطمینان تھے۔اسی طرح حضور اور حضور کے اہل بیت کے لئے دوستوں نے اپنی کارین وقف رکھیں جو رات دن ہر ضرورت کے وقت کام آتی رہیں۔ادارہ پرائیویٹ سیکرٹری جماعت احمد یہ کہ اچھی کے تمام افراد کا عموماً اور کریم جناب چودھری عبد اللہ خان صاحب امیر جماعت احمدیہ کراچی اور مکرم جناب شیخ رحمت اللہ صاحب نائب امیر اور مکر شمیم احمد صاحب جنرل سیکرٹری اور چودھری احمد جان صاحب کا خصوصاً شکریہ ادا کرتا ہے جنہوں نے ہر قسم کے انتظامات میں حصہ لیا اور حضور اور حضور کے اہل بیت اور ہم سفر خدام کی سہولت و آرام کا موجب بنے۔جزاهم الله احمر الجزاء في الدنيا والعقبى" ۲ - " حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز ۳۰ اگست کو چناب ایکسپرلی کے ذریعہ کراچی سے عازمیم ربوہ ہوئے۔جماعت احمدیہ کراچی کے سینکڑوں احباب اپنے محبوب اور مقدس امام کو الوداع کہنے کے لئے سٹیشن پر تشریف لائے اور حضور پر نور نے انہیں مصافحہ کا شرف بخشا اور لمبی دعا فرمائی۔۵ بجکر بیس منٹ پر گاڑی نعرہ ہائے تکبیر کے درمیان روانہ ہوئی۔راستہ میں حیدر آباد سندھ، رحیم یار خان ، خانپور ، لیاقت آباد، ڈیرہ نواب بهاولپور، لودھراں، شجاع آباد، ملتان ، خانیوال، عبد الحکیم، شور کوٹ روڈ، ٹوبہ ٹیک سنگھ گوجرہ، الائل پور، چک جھمرہ اور چنیوٹ کے سٹیشنوں پر بھی جماعتوں کے دوست حضور کے استقبال کے لئے تشریف لائے۔بعض مقامات پر احمدی خواتین بھی اپنے مقدس امام کی زیارت کے لئے آئی ہوئی تھیں۔اس سفر میں حضور اور حضور کے اہل بیت اور خدام کا ناشتہ اسر اگست کو خانپور کے اسٹیشن پر مکرم جناب چوہدری نصیر احمد خان صاحب نے پیش کیا دوپہر کا کھانا جماعت احمدیہ ملتان نے دیا اور عصرانہ جماعت احمدیہ لائل پور نے پیش کیا۔