تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 85
نفس مضمون کی طرف عود کرتے ہوئے حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔اسلام کے بیعنی نہیں ہیں کہ ہم حسنی، شیعہ ، اہل حدیث ، شافعی، حنبلی، مالکی یا قادری ہیں بلکہ اسلام کا اصل مطلب یہ ہے کہ ہم اپنے دل میں یہ فیصلہ کر لیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کے حکم پر چل کر ہی بشاشت محسوس کریں گے اور اس کی رضا اور اس کی خوش نودی حاصل کرنے کے لئے قرآن کو اپن دستور العمل بنائیں گے۔نام کے اعتبار سے تو ہر فرقے کا مسلمان مسلمان ہے لیکن اس نام کا اصل مستحق وہی ہو گا جو اپنے عمل کو اسلام کے سانچے میں ڈھال کر اپنے آپ کو اس نام کا اہل ثابت کرے گا۔اسی لئے ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن نے ابراہیم، نوح، موسی اور عیسی علیہم السلام کی جماعتوں کو بھی مسلمان قرار دیا ہے حالانکہ ان کے پاس قرآن نہیں تھا اور نہ ابھی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مبعوث ہوئے تھے اس کا مطلب یہ ہے کہ حقیقی اسلام نام ہے اطاعت و فرمانبرداری کی سپرٹ کا جب یہ سپرٹ ہم میں پیدا ہو جائے گی تو ہم اللہ کے نزدیک بھی مسلمان شمار ہونے لگ جائیں گے اور یہی وہ امتیاز تھا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں بدرجہ اتم موجود تھا۔وہ خدا کے سوا اور کسی کے آگے جھکنا نہیں جانتے تھے۔انہوں نے اپنے دلوں پر خدا کو حکمران بنا لیا تھا اسی لئے دنیا کی ہر طاقت ان کی نگاہ میں بیچے تھی پس اسی روح اور اسی بعد بے کا نام حقیقی اسلام ہے۔اسلام فقہ کی باریکیوں کا نام نہیں اور نہ ہی ان تفصیلات کا نام ہے کہ جن سے علم الکلام والوں کی تصانیف بھری ہوئی ہیں بلکہ وہ نام ہے اس سپرٹ اور اُس جذبے کا جس کے نتیجے میں انسان خدائی بادشاہت میں داخل ہو کہ ہر ما سوا کی غلامی سے نجات حاصل کر لیتا ہے لے ران اجتماعی تقاریب کے علاوہ خان ضیاء الحق صاحب (ڈرگ روڈ) اور سردار ممتاز احمد خاں صاحب (مالیر کینٹ) نے بھی الگ الگ عصرانہ پیش کیا جس میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے قریباً نصف نصف گھنٹہ تقریر فرمائی۔ہے شه روزنامه المصلح کراچی مورخہ یکم تبوک ۳۳۲ اهش / یکم ستمبر ۱۹۵۳ء ملت۔که روزنامه المصلح کراچی مورخه ۶ تبوک ۱۳۳۲اهش / ۶ ستمبر ۶۱۹۵۳ ص ܀