تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 69 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 69

لیسے اندر ڈال لیا تھا۔چنانچہ ۳ مارچ سے محلہ کے باہر گولی وغیرہ چلی اور ایک دو نعشیں اٹھائی گئیں تو لوگوں میں انتقام کی آگ اور بھڑکنے لگی اور ہمارے مکان کے گر د غنڈے قسم کے لوگ اکٹھے ہونے شروع ہو گئے۔بالآخر تقریباً ایک بجے کے قریب ایک بہت بڑا ہجوم آیا۔جس نے ہمارے دروازوں سے اندر داخل ہونے کی کوشش کی۔مگر وہ ناکام رہا۔لیکن جب وہ ہمارے تیسرے دروازے کے راستہ داخل ہونے میں کامیاب ہونے ہی والے تھے اور انہوں نے اُسے توڑ ہی ڈالا تھا کہ ہم تینوں بھائیوں نے چھت پر چڑھ کر ان سے کہا کہ تم لوگ یہاں سے چلے جاؤ ورنہ ہم اپنی حفاظت اور تمہارے حملہ کا مقابلہ کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں ہم رائفل اور بندوق بھی چھت پر لے آئے ہیں۔اس پر ہجوم نے ہما را رخ چھوڑ دیا۔یہ تو عوام کا حال تھا۔اب اُن کے خواص یا سرغنوں کی شجاعت و مردانگی کا حال بھی تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ میں پڑھ لیجئے۔ایک جگہ سیالکوٹ کے بلوائیوں کی ہلر بازی اور مہنگامہ آرائی کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ : - ایک آدمی چھرا گھمانا اور ناچتا ہوا باہر نکلا اور گولی کھانے کے لیے سینہ تان کے کھڑا ہو گیا لیکن میں نے اس کو بتایا کہ جب تک وہ فیتے کے دوسری طرف رہے گا اس کو گولی نہیں ماری جائے گی۔لیکن جونہی اُس نے نیتہ عبور کیا اُسے گولی مار دی جائے گی۔جب گولی چلنی شروع ہوئی تو مجھے وہ کہیں نظر نہ آیا۔وہ کہیں ہجوم میں غائب ہو گیا تھا۔سہیل فارنگ کے بعد ایک مولوی نے سامنے اگر فوج اور پولیس کو گالیاں دیں اور ان کو کافر کہا۔میں نے بگڑ سے کہا کہ لیگل سجائے۔چنانچہ جو نبی اس مولوی نے بیگل کی آواز سنی وہ مہجوم پر سے پھلانگتا ہوا پیچھے کی طرف بھاگ گیا یا سلے - - کرم صفدر خان صاحب محلہ بھا بھڑیاں میں مقیم تھے ، مظاہرین نے ان کو انہی کے مکان پر جا پکڑا۔وہ بیچارے اپنی جان بچانے کے لیے ادھر اُدھر دوڑے بھاگے مفسدین شه بیان لیفٹینٹ کرنل خوشی محمد صاحب (رپورٹ تحقیقاتی عدالت اردوص ۱۷۸ )