تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 68 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 68

YA بہت سے غنڈے، ڈنڈے تلواریں اور کلہاڑیاں لیے ہوئے پھر رہے ہیں۔جب میں ناصر پال کے مکان کے کونے پر پہنچا تو وہاں سے میں نے گلی میں جانا تھا۔ان غنڈوں میں سے ایک لڑکا مجھے جانتا تھا۔اس نے مجھے دیکھ لیا اور شور مچا دیا کہ وہ مرزائی جارہا ہے۔وہ غنڈے جو ناصر پال کے مکان کے گرد گھیرا ڈالے ہوئے تھے وہ سب میرے پیچھے بھاگے یہاں تک کہ انہوں نے مجھے میرے گھر کے پاس ہی جا کر گھیر لیا اور میرا سائیکل بھی انہوں نے چھین لیا۔چھ سات لڑکے تھے جنہوں نے مجھے لاٹھیوں اور ڈنڈوں سے مارا۔چاقو کا بھی دار کیا مگر مجھے خدا تعالیٰ نے بچا لیا۔چا تو میرے سینہ پر تھا کہ میں نے ایک ہا تھ سے چھڑا کر پاس ہی اپنے ایک غیر احمدی دوست کے گھر میں جا گھسا۔خون سے میرے کپڑے لت پت تھے۔اور میرا چہرہ پہچانا نہ جاتا تھا میں غیر احمدی کے گھر میں گھسا تھا وہ بھی مجھے دھکے دے کر باہر نکال رہے تھے یہاں تک کہ دروازہ اس زور سے بند کیا تھا کہ مشکل سے کھلتا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے میری مدد کی اور زور لگانے سے دروازہ کھل گیا اور میں اندر چلا گیا۔دروازہ بند کر کے مکان کے ایک کونے میں بیٹھ گیا لیکن غنڈوں نے شور مچایا کہ مرزائی کو باہر نکال دو نہ مکان کو آگ لگا دی جائے گی۔میں کمرے میں بھاگتا پھرتا تھا جس سے اُن کے مکان کا فرش خون سے بھر گیا تھا۔اسی دوران گلی میں کئی ایک رحم دل آدمی اور دوست جمع ہو گئے جنہوں نے مجھے اندر سے نکالا۔جب میں باہر آگیا تب بھی غنڈے حملہ کرنے سے باز نہ آئے اور انہوں نے مجھے پر وار کئے۔اس کے بعد مجھے کلمہ پڑھوایا۔۔۔پھر وہ غنڈے چلے گئے اور شیخ مہر دین احمدی کے گھر جا کر انہیں بھی زخمی کیا " ۳- جناب ناصر احمد صاحب پال تحریر فرماتے ہیں : شهر مارچ سے قبل کئی دنوں سے یہ شور بپا تھا کہ ہمارا مکان سب احمدیوں سے بڑا ہے اور یہ بہت کٹر قسم کے احمدی ہیں۔انہیں اس دفعہ بالکل ہی صاف کر دیا جائے گا۔بہر کیف ہم نے بھی اپنے بچاؤ کی خاطر مناسب تیاری کرلی تھی۔اور راشن وغیرہ بھی ایک ہفتہ کے