تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 70 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 70

کی گرفت سے نہ نکل سکے۔یہ ایک شخص کے چبوترے پر پناہ لینے کے لیے جا پڑھے لیکن اس نے بھی دھکا دے کر انہیں مظاہرین ہی کے حوالہ کر دیا۔جنہوں نے اُن پر پے در پے تیز دھار والے آلے سے حملہ کر کے ان کو سخت مجروح کیا اور انہیں مردہ سمجھ کر چلے گئے۔بعد میں انہیں ہسپتال پہنچایا گیا جہاں خدا تعالیٰ نے انہیں شفا عطا فرمائی۔انہی کے متعلق ایک اور دوست کا بیان ہے کہ یہ مضرین کے حملہ سے بیچنے کے لیے اپنے ایک معتمد علیہ سید ہمسایہ کے ہاں گئے۔اور اس سے پختن پاک کا واسطہ دے کر پناہ مانگی مگر اس نے بجائے پناہ دینے کے ان کی کلائی کو دانتوں سے کاٹ کھایا اور زخمی کر کے مفردین کے حوالہ کر دیا۔خود صفدر خان صاحب نے لکھا ہے۔میں جب ہسپتال گیا سوائے چند چیزوں کے باقی تمام سامان میرے مکان پہ تین دن تک موجود تھا۔اس کے بعد لوگ میرا سامان لوٹ کر لے گئے کا ه - جناب شیر محمد صاحب شمالی صدر بازار سیالکوٹ نے انہی دنوں اپنی ایک چھٹی میں لکھا جیسا کہ حضور کی پہلی چھٹی میں ذکر تھا کہ اللہ تعالیٰ کے فرشتے احمدیوں کی مدد کے لیے بارش کی طرح نازل ہو رہے ہیں (یہ نظارہ) یہاں دوستوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کر بار بود د صحیح تنظیم نہ ہونے کے اللہ تعالیٰ کی نصرت کس طرح شامل حال رہی۔جن دوستوں نے (دباؤ میں آکر) امتداد اختیار کیا وہ بھی اس تنظیم کے نہ ہونے کی وجہ سے متھا ورنہ عقائد ان کے اب بھی وہی ہیں الخ "۔محمد حسین صاحب کا تھا مرچنٹ نے لکھا کہ : مد مورخه هم رمان پچ کو قریبا اربجے دن تھانہ صدرسیالکوٹ کے سامنے جب ہجوم بے قابو ہو گیا تو فوج نے گولی چلائی اور لوگ بھاگے۔قریباً تین چار آدمیوں کا ایک ریلا جب ہماری گلی سے بھاگتا ہوا گزرا تو کسی شرارتی نے اُن کو کہا کہ وہ سامنے مرزائی کا گھر ہے راس محلہ ت وفات ۱۸؍ دسمبر ۶۱۹۶۳