تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 553 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 553

رہ سکتا۔ظاہر ہے کہ جب یہ طبقہ میدان میں آئے گا۔تو علماء کرام کے ساتھ ہی اسلام کو بھی اسی شر سے دوچار ہونا پڑے گا۔جس کا ایک ادنیٰ مظاہرہ ہم تو نی میں دیکھ چکے ہیں۔سیاست نہیں تخریبی مقاصد کے لیے مذہب کا استدلال حد درجہ نقصان دہ ہوا کرتا ہے۔پاکستان میں آج مذہب کو تخریبی سیاست کا آلہ کار بنایا جارہا ہے۔یہ چیز مذہب کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہوگی۔اور آج نہیں تو کل پاکستان کا تعلیم یافتہ طبقہ مذہب کے خلاف صف آرا ہو جائے گا۔جس کے نتیجہ میں کم از کم یہ تومزور ہو جائے گا۔کہ پاکستان کو ایک اسلامی اور مثالی سٹیٹ بنانے کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوگا۔اسلامی سٹیٹ کی جگہ دیسی ہی سیکولر حکومت وجود میں آجائے گی۔جیسی کہ منزل خلافت اسلامی کے بعد ترکی میں وجود میں لائی گئی۔اگر پاکستانی علماء اسے پسند نہیں کرتے کہ پاکستان غیر مذہبی ریاست بنا دی جائے۔اور وہ واقعی ایک مثالی مذہبی سٹیٹ کے قیام کے خواہشمند ہیں تو ان کو اپنی موجود و تنگ نظری ترک کرنا پڑے گی۔مذہب کے نام پہ فتنہ آرائی کا راستہ بھوڑنا پڑیگا۔پیر پرستوں صوبائی متعصبین کو تختہ مشق نہیں بنایا جائے گا ئے لئے ه - رسالہ " معارف "راعظم گڑھ) نے لکھا :- مغربی پاکستان میں قادیانیوں کی مخالفت جو شکل اختیار کر گئی ہے وہ بھی مذہب ، قانون اور اخلاق کسی حیثیت سے بھی صحیح نہیں ہے۔قادیانیوں کی شرعی حیثیت سے بحث نہیں مگر ان کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا مطالبہ اس وقت کیا جا سکتا تھا جب پاکستان میں اسلامی دستور نافذ ہو چکا ہوتا مگر ابھی تک تو وہاں ۱۳۵ پہلے کا ایکٹ ہی چل رہا ہے جس کی نگاہ میں سب فرقے برابر ہیں اور اس کی رو سے اس قسم کا مطالبہ ہی کرنا صحیح نہیں۔اور اگر اسلامی دستور بھی نافذ ہوتا تو وہ بھی اس فتنہ وفساد کی اجازت نہیں دے سکتا تھا جو مذہب کے نام پر پر پا کیا گیا۔کوئی ایسی تحریک میں سے ملک کا امن وامان خطرہ میں پڑ جائے اور لوگوں کی جان ومال اور عزت و آبرو کی حرمت احمد جائے مذہب کی خدمت نہیں بلکہ اس کو بدنام کرنا ہے۔پنجاب میں اسلام کے نام پر جو جرائم کیسے گئے ہیں ان کی اجازت اس کا کون سا قانون دیتا ہے اور اس سے اس کی کیا خدمت ہوئی اور اس + نے بحوالہ بدر ۲۱ رما پر ۱۹۵۳ء مٹ : ۲ یہاں سہواً ۱۹۵۳ ء لکھا تھا۔