تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 554 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 554

۵۵۲ کے بعد فوج کے ہاتھوں جو زیا دتیاں ہوئیں اس کی ذمہ داری بھی اس تحریک کے رہنماؤں کے سر ہے۔اگر اسلام کی خدمت اسی طرح ہوتی رہی تو ملک ہی باقی نہ رہ جائے گا۔اسلامی قانون کہاں نافذ کیا جائیگا حصول اقتدار کے لیے مذہب کو وسیلہ بنا تا خود بڑ اندر ہی جرم ہے۔مذہب کے نام پر جو کچھ کیاگیا ہے اس کی اجازت تو لامذ ہبی بھی نہیں دے سکتی ہے۔اس سے انکار نہیں کہ اسلام کے اصل محافظ دپاسبان علماء ہیں مگر ان کو اس زمانہ کے ارباب سیاست سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے کہ وہ ان کا آلہ کار نہ بننے چاہئیں۔پنجاب میں جو کچھ ہوا اس میں مذہب سے زیادہ سیاست کو دخل ہے مگر افسوس یہ ہے کہ یہ ساری شورش مذہب کے نام پر کی گئی جس کی ذمہ داری سے علماء بھی بری نہیں شاہ گجراتی ہفت روزہ " وطن، (بمبئی) کے ایڈیٹر مکرم جناب سیف صاحب پالمپوری نے ارمئی 90لہ کی اشاعت میں جماعت احمدیہ کے بارے میں بعض سوالات کے جواب میں لکھا:۔"وطن" ہر کلمہ گو انسان کو مسلمان مانتا ہے جو شخص اللہ تعالی اور اس کی کتابوں پر ایمان رکھتا ہو اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ پڑھتا ہو۔یہ وطن کے خیال میں وہ پکا مسلمان ہے خواہ وہ مسلمان قادیانی ہو خواہ وہابی خواہ شیعہ اور خواہ سنتی ہو۔اس قسم کا سوال پوچھ کر فرقہ بندی اور فرقہ پرستی کو ظاہر کرنا ہماری پالیسی کے خلاف ہے۔" وطن " ان جھگڑوں کو نہیں مانتا۔یہ کام تو ان لوگوں کا ہے جو اسلام کے دشمن ہیں فتنہ پر دانہ ہیں۔وطن ایسی فتنہ پردازی کے ہمنت مخالف ہے اور اُسے بہت بری نظر سے دیکھتا ہے۔پاکستان میں قادیانی مذہب والے بڑے عہدوں پر ہیں۔اس کے متعلق وطن کے پاس کوئی جواب نہیں۔کیونکہ وطن، ایسی فرقہ بندی اور فرقہ پرستی کو مانتا ہی نہیں۔اب رہا یہ سوال کہ پاکستان میں قادیانی مذہب کا زور شور سے پر چار ہو رہا ہے تو اس کا یہ جواب ہے کہ قادیانی مذہب کا تو پر چار نہیں ہو رہا مگر قادیانیوں کے خلاف کچھ عرصہ پہلے کانی پر چار رہا ہے جس کی وجہ سے پاکستان میں بار بار طوفان اٹھا۔ملاؤں نے اپنا نام تو دینا کیا مگر اسلام کو شرمندہ کیا۔اب اگر ملا ذرا بھی شرم وحیا رکھتا ہے تو اس کے بعد وہ اب کبھی فرقہ بندی اور فرقہ پرستی میں دلچسپی ہے۔پاکستان میں فرقہ بندی زیادہ ملاں بندی ہو به رساله معارف البریل ۱۹۵۳ء صفحه ۲۴۳ و ۲۴۴ بحواله بدر مار جولائی ۶۱۹۵۳ مش