تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 549
۵۴۷ - روز نامہ " اقدام " حیدر آباد نے مورخہ ۲۴ جوادی الثانی ۱۳۲۱ ھ ا ار مارچ ۱۹۵۳ء کو مندرجہ ذیل افتتاحیہ تحریر کیا ہے۔اسلام اس مقدس تحریک کا نام ہے جو وسعت نظر فراخ دلی۔انسانیت دوستی اور جمهوریت نوازی میں اپنی مثال نہیں رکھتی۔پاکستان کی حکومت اور پاکستان کے عوام کی غالب اکثریت اسلام کے اصولوں کی نگہبانی کا دعوی کرتی ہے۔اسلام کو صر فرو و بلند کرنے کی آس نہ ومند ہے۔اور اسلامی قوانین و احکامات کی بہ دشمنی میں اپنی زندگی کو آگے بڑھانے کے اعلانوں سے اپنی نہ بانہیں خشک کرتی رہتی ہے۔قائد اعظم علیہ الرحمہ سے لے کر شہید ملت نوابزادہ لیاقت علی خاں تک کی یہ تمنا تھی۔کہ پاکستان ایک ایسی اسلامی مملکت بن جائے جس کے فرماں رواؤں کی زندگی میں خلفائے راشدین کی زندگی کی جھلک پورے آب و تاب کے ساتھ موجود ہو۔اور جس کے مسلمان شہری اس ریگ زار عرب کے مسلمانوں کا نمونہ بن جائیں۔جنہوں نے آج سے تقریباً چودہ سو سال پہلے اللہ اکبر کا نعرہ لگا کر ساری دنیا میں امن وچین، شرافت و نیکی، وسعت نظرا در انسانیت و شرافت کی نعمتیں بکھیر دی تھیں۔قائد اعظم یا نواب زادہ کی زندگی تک تو یہ تمنا پوری نہیں ہوئی۔اور ان دونوں اکابرین کے بعد اگر کچھ ہوا تو پاکستان میں یہ ہوا۔کہ پاکستانی حکمرانوں کے ایک طبقے اور پاکستانی مسلمانوں کی قابل ذکر تعداد نے ان جاہل عربوں کی نقل اتارنی شروع کر دی جو اسلام سے پہلے دل آزاری ، تنگ نظری اور خون خرابے کو اپنے قبیلوں کا وقار بنائے ہوئے تھے اور عقائد کے نام پر کٹ مراد دوسروں کے عقائد کو متاثر کرنا ، انسان کی فکر و نظر کی آزاد ازادی پر میرے یٹھا نا جن کا شعار ہوچکا تھا۔پاکستان ایک اسلامی طرز کی جمہوریت کے قیام کے لیے بے تاب ہے۔اور ایک ایسی جمہوریت کی نمائندگی کا دعویدار ہے۔جس میں سر فرد کو مساوات سرخیال کو اناودی اور ہر عقیدہ کو بے خطر ماحول میں پروان چڑھنے کا موقعہ حاصل رہے میکن لاہور سے لے کر اچھی تک کے حالیہ ہنگامے کیا اس دعوے کی تکذیب نہیں کرتے۔کیا یہ ثابت نہیں کر ر ہے ہیں۔کہ ہنگامہ آرائی کے ماہرین اسلام سے دُور اور بہت دور ہو چکے ہیں۔اور ایسی حاشیه مت له بجوداله بدر قادیان ۲۱ مارچ ۵ ست