تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 519 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 519

016 آج یہ غازی ہیں جو ختم نبوت کا نعرہ لگا کر پھر میدان سیاست میں آنا چاہتے ہیں۔سلہ مزید لکھا :۔تحفظ ختم نبترت ہور یا مجلس احرار۔ان دونوں کے نام سے آج تک تا ریا نیت کے خلاف جو کچھ کیا گیا ہے اس نے قادیانی مسئلے کو الجھایا ہے۔ان حضرات کے اختیار کردہ طرز عمل نے راہ حق سے بھٹکنے والے قادیانیوں کو اپنے عقائد میں پختگی کا مواد فراہم کیا ہے اور جو لوگ مذہب تھے انہیں بد عقیدگی کی جانب مزید دھکیلا ہے۔استہزا ، اشتعال انگیزی، یاوہ گوئی ، بے سروپا لفاظی ، اس مقدس نام کے ذریعہ مالی علین لا دینی سیاست کے داؤ پھیر، خلوص سے محروم اظہار جذبات ، مثبت اخلاق فاضلہ سے تہی کردار نا خدا ترسی سے بھر پور مخالفت کسی بھی غلط تحریک کو ختم نہیں کر سکتی اور ملت اسلامیہ پاکستان کی ایک اہم محرومی یہ ہے کہ مجلس احرارہ" اور " تحفظ ختم نبوت کے نام سے جو کچھ کیا گیا ہے اس کا اکثر و بیشتر حصہ اپنی عنوانات کی تفصیل ہے لہ تحفظ ختم نبوت کے فنڈ اور اس کے فنڈ سے حامل کیے گئے باتنخواہ "مبلغین کو جماعت اسلامی کے خلاف تقاریہ کی ٹرینگ کا اہتمام کیا گیا جس کی زمام کار مولوی لال حسین ایسے " محتاط" اور شیریں مقال مناظر کے ہاتھوں میں سونپی گئی۔اور یہ کام بھی انہی کے سپرد کیا گیا کہ وہ ہر شہر میں سیاسی کارکنوں کی میٹنگیں بلائیں اور ان میں مولانا مودودی اور جماعت اسلامی کے خلاف نفرت و حقارت پھیلانے کا کام کریں۔ان مجالس میں مسلم لیگ ، آزاد پاکستان پارٹی جناح عوامی لیگ کے کارکنوں کو بلایا جاتا اور اہل حدیث ، دیو بندی اور یہ علوی حضرات کو دعوت دی جاتی۔انہیں یکجا کر کے مذہبی اور سیاسی اختلافات کے علاوہ یہ بات عام طور پر کہی جاتی رہی کہ جماعت اسلامی کا کہ دار اس کے قائد ابو الاعلی امور دری کے اس طرز عمل سے معلوم کیا جا سکتا ہے کہ مودودی صاحب میسج مجلس عمل کے اجلاسوں میں شریک ہو تے اور رات نہ المنیر لائل پور۔اور جولائی ۱۹۵۶ متہ کالم ۳٫۲ المنیر لائل پور - در جولائی ۱۹۵۶ م کالم ۲