تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 518 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 518

جماعت اسلامی کے ہفت روزہ ترجمان المنیر نے رنس کے ایڈیٹر حکیم مولوی عبدالرحیم صاحب اشرف تھے) یہ لکھا :۔کہ ہے احراری تو ہم اب اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ اس بد نصیب گروہ نے تحفظ ختم نبوت کے نعرہ کو اپنے سیاسی کردار کی طرح بکاؤ مال بنا رکھا ہے۔ان لوگوں کی اکثریت کو نہ ندا کا خوف ہے نہ تعلق کی شرم نہ یہ پیغمبر کی نگاہ خشمگیں سے ڈرتے ہیں اور نہ انہیں جلال کبر بانی سے کوئی خطرہ محسوس ہوتا ہے۔ان پاسبان ختم نبوت نے لائل پور کی اسی گراونڈ میں پک لپک کر یہ جملے کہے ہیں۔الحاج ناظم الدین اتم نے حاجی کہلا کہ اور نمازی بن کر اسلام اور ختم نبوت کا بیڑا غرق کیا ہے تم سے ہزار بارہ وہ بے دین ہے نانہ اور غیر حاجی دوستانہ اچھا جس نے اپنی وزارت کی پرواہ نہ کرتے ہوئے تحفظ ختم نبوت کا ساتھ دیا ہے۔اور آج یہی گروہ ہے جو دولتانہ کو ختم نبوت کا غدار کہتے نہیں تھکتا۔اور پھر احراری وہی حضرات ہیں جنہوں نے مارشل لاء کے دوران مخلص نوجوان مسلمانوں کو کر نیو اور دفر ۱۲۴ کی مخالفت پر اکسا کہ مسجدوں سے سر پر کفن بند ھوا کہ با ہر نکالا اور ان کی لاشوں کو فوج کی گولیوں سے تڑپتا دیکھ کہ یہ کہا کہ :۔میں تحریک کو خون سے نہ سینچا جائے وہ تحریک کبھی عوامی تحریک میں بھی نہیں سکتی لیکن جب ان " علمبر داران حریت کو چند ہفتے کے لیے جیلوں میں رجہاں انہیں بی کلاس میں تین چھٹانک گوشت ایک چھٹانک گھی۔چھٹانک دودھ چھ چھٹانک آٹا اور تیسرے دن فروٹ کھانے کے لیے ملتے تھے) رہنا پڑا تو ان کی اکثریت نے سینکڑوں مرتبہ زبانی اور دسیوں دفعہ تحریری طور پر لکھ دیا کہ در ہم کبھی بھی حکومت کے خلاف نہ تھے نہ ہم نے سول نافرمانی کو آج تک جائز سمجھا ہے اور نہ آئندہ کبھی بھی اسے جائز سمجھیں گے نیز کہ ہم حکومت کے پیچھے د نادار ہیں اور ہم عہد کرتے ہیں کہ کسی تحریک میں کبھی حصہ نہیں لیں گے۔بقیہ حاشیہ مثل :- کہ ایسے ڈھلمل یقین اور مہذب کیریکٹر کے لیڈر کے متعلق اس امر کی کیا منمانت ہے کہ وہ آئندہ کسی ایسے ہی کر انس کے وقت قوم کی کشتی کو عین مسنجر بار میں نہ جاؤ بوئے گا۔(نوائے وقتہ ور جولائی ۱۹۵۵ء ص ۲۳)