تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 434 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 434

۱۹۵ء میں جنرل اسمبلی کے اجلاس پیرس میں میں نے جو تقریبہ کی معھی اس پہ جماعت اسلامی کی نکتہ چینی کا میں جواب دینا چاہتا ہوں جس میں میں نے ایک برطانوی نو آبادی میں ایک احمدی کے ساتھ بدسلوکی کا شکوہ کیا تھا۔میں نے مسلمانوں کے اس مفاد کا کوئی ذکر نہیں کیا جس میں مسلمانوں کے مفادات مغربی ممالک کے خلاف تھے۔میں یہ بتانا چاہتا تھا کہ میری اس تقریہ کا زیادہ تر حصہ نو آبادیاتی نظام کے دونوں سیاسی اور اقتصادی پہلووؤں کی مذمت سے متعلق تھا۔وہ مذمت بہت پر زور بھی اور اسے بڑے جوش سے ظاہر کیا گیا تھا اس مذمت کے سلسلے میں نو آبادیاتی نظام کی دفتریت کے تکبر کی مثال دیتے ہوئے میں نے ایک برطانوی نو آبادی میں ایک پاکستانی کے ساتھ بدسلوکی کی مثال دی۔میں حلفیہ تو نہیں کہ سکتا کیونکہ میں اس وقت اپنے حافظے کو انہہ نہیں کر سکتا لیکن میرا خیال ہے کہ اس میں اس کا ذکر نہیں کیا گیا تھا۔کہ وہ شخص احمد می تھا۔بہر حال اس واقع کا ذکر صرف رو بلدیاتی نظام کی برائیوں کے اظہار کے لیے کیا گیا تھا یا اسی اجلاس کے دوران میں مراکش اور تیونس کے مسئلے کو ایجنڈا میں شامل کرنے کا سوال پیش ہوا۔اس موقع پر میری ہی تقر یہ سب سے نمایاں تھی جس میں میں نے امریکہ اور دیگران ممالک کے طرز عمل کی مذمت کی تھی جو ان مسائل کو ایجنڈا میں شامل کرنے کے خلاف تھے۔مجھے خاص طور پر یہ بات بھی یاد ہے کہ میں نے جب سے یہ کہا کہ اگر ان مسائل پر غور کرنے سے انکار کیا گیا تو مراکش میں قتل دونوں ہو گا۔اور اس کی تمام تر ذمہ داری امریکی مندوب پر ہوگی میں نے مجھ سے پہلے تقریر کی تھی۔جس شدت کے ساتھ اس کی مذمت کی گئی تھی اس کے باعث امریکی مندوب کا رنگ زرد پڑ گیا تھا۔ان حالات میں یہ کہنا بڑی نا انصافی کی بات ہے کہ میں نے ایک احمدی کی وکالت کی جس کے ساتھ بد سلوکی ہوئی تھی مگر عام مسلمانوں کے مسائل کی طرف کوئی توجیہ نہیں دی اه روزه نامه ملت لاہور مورخہ ۲۲ جنوری ۱۹۵۴ ۶ مت