تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 435
سید نا حضرت المصلح الموعود کے ایمان افروز عدالتی بیان و کرائے احمدیت کے زور دار بیانات کے بی سی سے کر عدالت ہی میں نہیں پریس بعد میں بھی احمدیت کا ملک گیر چہ چا ہوا، مسلمی اعتبار سے سب سے زیادہ اہمیت دکھائے احمدیت کے زورسہ دار بیانات کو حاصل ہے۔اس معرز نہ عدالت میں مدر انجمن احمدیہ کی طرف سے نمائندگی کی سعادت جناب شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ (سابق امیر جماعت احمدیہ لاہور) اور خالد احمد ثبت ملک عبد الرحمن صاحب خادم گجراتی پلیڈ۔امیر جماعت احمد یہ گجرات کو نصیب ہوئی۔جناب شیخ بیر احمد صاحب نے ۲۲ ۲۳ را در ۲۴ فروری یاد کو مفصل بیان دیا جس میں را خیار قمت لاہور کے نامہ نگار کے مطابق) آپ نے نہایت واشگاف الفاظ میں اپنے اس دعوئی کے دلائل پیش کیے کہ یہ ایک غیر متنازعہ حقیقت ہے کہ فسادات احرار نے کرائے تھے۔نیز یہ کہ مطالبات مقصد کی دیانتدار ہی پر مبنی نہیں تھے اور پاکستان کو ختم کرنے کے لیے مذہب کو آلہ کار بنایا گیا تھا اور جماعت اسلامی نے ایسا طریق کار اختیار کیا کہ اس کے اراکین اس بات کے قائل ہو جائیں کہ حکومت کا تختہ الٹ دنیا ان کی مذہبی ذمہ داری ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ مولانا مودوی اور ان کے پیرو پوری طرح سے محسوس کرتے تھے کہ تحریک جس نے۔۔حکومت کی شاہلی اور بے عملی کی وجہ سے شدت اختیار کر لی معنی ریاست کے تھی وجود کو خطرے میں ڈال دے گیا۔اور ملک میں وسیع پیمانے پر ایسے ہولناک فسادات ہوں گے جو تقسیم سے پہلے کے ہندومسلم فسادات سے بھی زیادہ سنگین ہوں گے۔انہوں نے دولتانہ حکومت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ جماعت احمدیہ نے تحریک کے خطرناک سُرخ کے امکانات کی طرف حکومت کی توجیہ وقتاً فرقنا مبذول کرائی۔لیکن پہلے سے منصوبہ تیار کر کے چلائی جانے اور مذہب کے نام پر اٹھائی جانے والی تحریک کے محرکین کے خلاف کوئی مؤثر اقدام نہ کیا گیا۔نہ اشتعال انگیز پراپیگنڈے کے سوکھنے کے لیے کوئی کارروائی کی گئی۔اور تحریک کے خطرناک مضمرات سے واقف ہونے کے باوجود شورش کو بڑھ جانے کا موقع دیا گیا۔اور مرزا پانے والے لیڈروں کی رھائی اور دفعہ ۱۴۴ ہٹا لینے کے باعث صورت حال بد سے بدتر ہو گئی۔انہوں نے کہا مجھے نیک نیتی کیسا تھے