تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 433 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 433

اہمیت رکھتے ہوں ؟ جواب :۔جس دن سے پاکستان اقوام متحدہ کا رکن بنا ہے میں جنرل اسمبلی میں پاکستانی وفد کی قیادت کرتا آرہا ہوں۔جب کبھی وہاں مسلمانوں کے عام مفاد کا مسئلہ آیا ہے مثلاً مسئلہ فلسطین۔مسئلہ لیبیا - اریر یا۔سمالی لینڈ۔مراکش اور تیونس ان تمام مسائل میں میں نے ذاتی دلچسپی لی اور میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کی طرف سے ان ممالک کے مقدمات کی پیروی کو نہ صرف ان مالک نے بلکه دیگر تمام مسلم ممالک نے بھی سراہا اور اس کی تعریف بھی کی۔سوال: - سان فرانسسکو میں آپ نے جو تقریر کی تھی وہ آپ کو یاد ہے ؟ جواب :- جی ھاں۔سوال :- کیا آپ نے اس تقریر میں اسلام کے متعلق کچھ کہا تھا؟ اگر کچھ کہا تھا نوکیا اس تقریہ میں ایک فرقہ واری رحجان کی جھلک نہ تھی ؟ جواب: - جاپانی معاہدے کا ایک پہلو جو ان مالک میں بھی بحث و تمحیص کا موضوع بن گیا تھا۔جو اس معاہدے کے حق میں تھے ، وہ یہ تھا کہ جاپان سے بہت فیاضانہ سلوک کیا جا رہا ہے۔دوسری طرف ایک یہ رجحان تھا کہ انسانی تاریخ میں ایک مفتوح دشمن سے امریکہ کے فیاضانہ سلوک کو انسان تا ریخ کا ایک بے مثال واقعہ قرار دیا جائے۔اس پہ میں نے اپنی تقریہ میں بتایا کہ ایک مفتوح وشن کے ساتھ ایک فیاضانہ معاہدے کی سب سے درخشاں مثال وہ حسن سلوک ہے جو پیغمبر اسلام نے مفتوح قریش کے ساتھ معاہدہ مکہ کے موقع پر کیا تھا۔میری اس تقریر کا نہ صرف ان مدبروں پر جو وہاں جمع تھے بلکہ سارے امریکہ پر گہرا اثر ہوا۔کیونکہ یہ تقریر سارے امریکہ پر نہ صرف نشر کی جارہی تھی بلکہ ٹیلی ویژن پر اس کارروائی کا منظر بھی دکھایا جار ہا تھا۔اس صدا کی ایک بازگشت جو مجھ تک پہنچی اور جس کا احداث نعمت کے طور پر میں ذکر کر رہا ہوں وہ یہ ہے کہ حبیب اس معاملے پر آسٹریلیا کی پارلیمنٹ میں بحث ہوئی تو اپوزیشن پارٹی نے اس معاہدے پر دکھائی ہوئی فیاضی کی طرف حکومت کو متوجہ کیا۔جس کے جواب میں برسر اقتدار پارٹی کے ایک رکن نے اپنی تقریر میں کہا کہ اس موقعہ پہ انہیں اس سہر پر عمل کرنا چاہیئے۔جس پر پیغمبر اسلام نے فتح مکہ کے موقعہ پر عمل کیا تھا۔مجھے یقین ہے کہ یہ حوالہ میری تقریہ ہی سے دیا گیا تھا۔