تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 429
۴۲۷ میں دو ایک واقعات کو جن کا میں نے ذکر کیا غلط رنگ میں پیش کیا گیا اور جہاں تک اپنے عہدہ کے متعلق میرے رویہ کا تعلق ہے میں اسے ایک بہت بڑا اعزا نہ سمجھنا ہوں جو خدا وند تعالیٰ نے مجھے عطا کیا ہے یہ چیز قابلیت اور صلاحیت کی بناء پر نہیں میں اسے ایک امانت تصویر کرتا ہوں اور ذمہ داری بھی جھے یکیں معمولی نہیں سمجھتا اور دوسری طرف یہ بالکل واضح ہے کہ وزیر اعظم اپنے کسی سامنفی سے استعفے طلب کر سکتے ہیں جب یہ تحریک شروع ہوئی تو میں نے نہایت واضح لفظوں میں اس وقت (کے ) وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین کو یہ بتایا تھا کہ اگر وہ بار سمجھیں تو میں علیحدہ ہونے کے لیے ہر وقت تیار ہوں جہانتک اس رپورٹ کا تعلق ہے اتنا حصہ بالکل صحیح ہے اور میری پوزیشن کو واضح کرتا ہے پیارے در مولا نا مرتضی احمد خان میکش نے مجلس عمل کی طرف سے جرح کی۔سوال: - ۱۹۲۷ء میں جب آپ اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت کے جنیوا گئے تھے کہا جاتا ہے کہ عرب ڈیلی گیٹوں نے آپ سے کہا تھا کہ آپ اپنے قیام میں چند دن کی توسیع کر دیں تو آپ نے انہیں کیا جواب دیا تھا۔؟ جواب: - اس سوال کا اصطلاحی جواب یہ ہے کہ اقوام متحدہ کی اسمبلی کا کوئی اجلاس ۱۹۴۷ء میں بینیوا میں نعقد نہ ہوا تھا۔اجلاس نیو بارک سے باہر منعقد ہو ا تھا ایک کسی اور فلشنگ میڈوز میں۔اس سوال میں میں واقعہ کا ذکر کیا گیا ہے وہ حسب ذیل ہے۔فلسطین کا مسئلہ اجلاس میں پیش ہوا۔اس پر خوب بحث ہوئی اور کمیٹیوں میں اس پہ آراء شمار می بھی ہوئی۔ان میں سے ایک سب کمیٹی کا میں صدر تھا۔اجلاس کے خاتمہ پر عرب ریاستوں کے نمائندوں کو معلوم ہوا کہ میں اجلاس کے خاتمہ سے پہلے واپس جانا چاہتا ہوں۔انہوں نے درخواست کی کہ میں اجلاس کے خاتمہ تک وہاں رہوں میں اس وقت نواب بھو پال کا آئینی مشیر تھا۔پاکستان کی حکومت کا میں رکن نہ تھا۔درحقیقت بہت سا کام ختم ہو چکا تھا۔پاکستانی ڈیلی گیشن کے دو مہبروں کو خود میں نے واپس پاکستان جانے کی اجازت دے دی تھی اگر میں اس وقت آجا تا تو بھی ہمارے ڈیلی گیشن کے دو تین ارکان وہاں تھے جو اس قسم کی رسمی کارروائی کی نمائندگی کر سکتے تھے جب میں وہاں تھا۔ه روزنامه "لمت لاہور ۲۲ جنوری ۱۹۵۴ ۶ ص۲