تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 427
۴۲۵ صرف ان دود اسامیوں پر مجھے خود کسی آدمی کو فر کرنے کا اختیار ہے۔یعنی میرا پرائیویٹ سیکریٹری اور میرا پرسنل اسسٹنٹ اور ان دونوں اسامیوں میں سے ایک پر کبھی کوئی احمدی مامور نہیں ہوا۔وزارت میں یا دوسرے ملکوں کی منسٹر یل اسامیوں کے لیے بھرتی سے مجھے کوئی تعلق نہیں ہے اور جہاں تک مجھے علم ہے ممالک غیر میں ہمارے مشن کی منٹریل اسامیوں پر صرف تین احمدی ہیں ان میں سے کسی ایک کی بھرتی سے مجھے کوئی مطلب نہیں تھا۔ان میں سے دو تقسیم سے پہلے مٹیریل اسامیوں پر ملازم تھے اور میرا خیال ہے کہ تیسرے کو ملک کے باہر ہی مھرتی کیا گیا تھا۔جہانتک اس کا تعلق ہے اس کے سرکاری ملازم ہونے کے کافی دیر بعد تک مجھے یہ معلوم نہیں ہوا کہ وہ احمدی ہیں۔جہاں تک دو سر می تمام وزارتوں میں سرکاری ملازمتوں پر افسروں کے گریڈ کی بھرتی کا تعلق ہے میرا خیال ہے کہ یہ بھی پبلک سروس کمیشن کے ذریعے ہوتا ہے۔اور میں نے کسی شخص کی ملازمت کے لیے خواہ وہ احمدی ہو یا غیر احمدی براہ راست یا بالواسطہ طور پر پبلک سروس کمیشن کے کسی رکن پر اللہ ڈالنے کی کوشش نہیں کی۔جہاں تک مجھے معلوم ہے مرکز یا صوبوں میں تقسیم سے قبل یا اُس کے بعد پبلک سروس کمیشن کا چیر مین یا اس کا رکن احمدی نہیں ہوا۔سوال: - کیا وزارت صنعت کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل چو ہدری بشیر احمد اور محکمہ خوراک کے جائنٹ سیکرٹری شیخ اعجاز احمد آپ کے دوست اور احمدی ہیں ؟ ہیں۔جواب :۔جی ہاں ! وہ میرے دوست اور احمد می ہیں۔شیخ اعجاز احمداب ریٹائرڈ ہو چکے سوال: - کیا آپ نے انہیں پہلے سرکاری طازمت دلائی تھی ؟ جواب :۔جی نہیں ہے ۲۔یہ منادات پنجاب کی تحقیقاتی عدالت میں وزیر خارجہ پاکستان چوہدری محمد ظفراللہ خان نے Ministerial ۲۱ جنوری ۱۹۵۳ء مراده وزارتی : سه اخبار روزنامه لایت لاہور مورخہ