تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 426
۳۲۴ گیا تھا یا آپ نے فرقے کی کوئی مادہ کی مفتی ؟ جواب :۔میرا خیال ہے کہ اراضی کے حصول کی اصل گفت وشنید میں کسی موقع پر میں نے کوئی حصہ نہیں لیا تھا۔اراضی کے حصول کے بعد بعض دشواریاں پیدا ہو گئی تھیں اور مجھے یاد ہے کہ میں نے ان کے متعلق مسٹر دولتانہ اور مسٹر دستی سے بھی بات کی تھی۔سوال : کیا آپ تقسیم سے پہلے مسلم لیگ کے رکن تھے ؟ جواب: - ۱۹۳۷ء میں فیڈرل کورٹ کا رنج بننے سے پہلے میں مسلم لیگ کا رکن تھا مگر مرکز می کا بینہ کی رکنیت کے دوران میں میں نے مسلم لیگ کی کارروائیوں میں سرگرمی سے حصہ نہیں لیا تھا۔سوال: - ۱۹۲۶ء میں مسلم لیگ کی ہدایات کے مطابق کیا آپ نے اپنا خطاب واپس کیا تھا ؟ جواب:۔مجھے اس طرح کی کسی ہدایت کا کوئی علم نہیں ہے لیکن میں نے تقسیم کے بعد عہدہ سنبھالنے کے بعد اپنا خطاب استعمال نہیں کیا ہے۔سوال: - ایک شکایت یہ ہے کہ سرکاری دفاتر میں خواہ وہ آپ کی اپنی وزارت کے ہوں یا کسی دوسرے محکمے کے آپ اپنے فرقے کے اراکین کو ترجیح دیتے رہے ہیں ؟ جواب :۔جہاں تک میری اپنی وزارت کا تعلق ہے پوزیشن یہ ہے کہ فارن سروس کے لیے ہیں خود کوئی تقریر نہیں کرتا۔فارن سروس کے لیے تمام تقرریاں پبلک مردی کمیشن کی سفارش پر کی جاتی ہیں اس لیے میرے علم کے مطابق فارن سروس کے استی یا سو افراد میں سے احمدیہ فرقے کے صرف ہم ارکان ہیں۔ان میں سے ایک پہلے ہی سے وزارت میں تھا اور میرے خیال میں وہ بھارت سے آپ سے کر کے آیا تھا۔وہ تقسیم سے پہلے ہی سے سرکاری ملازم تھا۔میرے وزیر خارجہ ہونے سے پہلے وہ وزارت میں تھا۔ان میں سے ایک تقسیم سے پہلے ہونے والے مقابلے کے امتحان کے ذریعہ منتخب ہو ا تھا۔وہ بعد میں پبلک سروس کمیشن کے ذریعے منتخب ہوئے تھے۔لیکن اپنے انتخاب کے وقت وہ دونوں سرکاری ملازم تھے۔تقسیم کے بعد ملازم ہونے والے تین افراد میں سے دو کے متعلق مجھے ان کی ملازمت کے بعد تک یہ نہیں معلوم تھا کہ وہ احمدی ہیں لے سہوا نے لکھا ہے سے OPT ( اختیار - انتخاب - پسند)