تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 413
ہوتا ہے جن دنوں وہ بیان اخباروں میں چھپے ہیں اخبار ہاتھوں ہاتھہ کہتے رہے۔بلکہ میں نے سنا ہے کہ بعض لوگوں نے تو اخبارہ نہ یادہ قیمت پر بھی خریدے ہیں۔پڑھا لکھا طبقہ جن میں بعض کمیونسٹ بھی شامل ہیں یہ کہ رہا ہے کہ اگر تو اسلام کی یہی تعلیم ہے و حضور نے بیان کی ہے تو پھر یہ اسلام ایسا ہے جو مستقبل میں قابل قبول ہوگا۔مولوی کا اسلام تو بہت گھناؤنا ہے۔اس کے لیے کوئی جگہ نہیں۔مجھے جن مسائل سے متعلق لوگوں سے گفتگو کرنے کا موقعہ ملا ہے اُن میں سے ایک تو کفر و اسلام ہے پڑھے لکھے لوگوں کو کفر و اسلام کی حضور کی یہ تشریح کہ یہ نسبتی چیزیں ہیں بہت پسند آئی ہے۔الغرض جہاں تک حضورہ کے بیان کا پڑھے لکھے لوگوں پر اثر ہے وہ بہت ہی شاندار ہے۔اور اکثر لوگ حضور کے بیان کردہ مسائل پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔“ ۴ - جناب شیخ محمد احمد صاحب منظر امیر جماعت احمدیہ ضلع لائل پور نے اپنے مکتوب مورخہ 19 جنوری ۱۹۵ء میں حضرت مصلح الموعود کی خدمت اقدس میں لکھا: - حضور کے بیان کا اثر تعلیم یافتہ طبقہ پر بہت گہرا ہوا ہے۔اتنا گہرا کہ اندازہ بھی مشکل سے ہو سکتا ہے۔ایک سب نجح جو بیان کے وقت عدالت میں موجود تھا۔اس کا قول ہے کہ اگر ایمان مضبوط نہ ہو تو آمدی ہونے کو اس وقت جی چاہتا تھا۔اس بیان سے بہت سی غلط فہمیاں احرار کی پھیلائی ہوئی دور ہو چکی ہیں۔اور اللہ تعالیٰ کی مصلحت تھی کہ حضور کو بیان کے لیے طلب کیا گیا۔بہت سے پیچیدہ مسائل کے حل ہونے کا لوگ اعتراف کرتے ہیں۔غرضیکہ تائید الہی اور نصرت بالرعب کا سماں ہے و الحمد للہ علی ذالک۔اپنی اخلاقی اور قانونی شکست کا بھی لوگ ذکر کرتے ہیں۔محترم شیخ صاحب نے اس کے بعد اپنے مکتوب مورخه ۲۸ جنوری ۱۹۵۴ء میں مزید لکھا :- " عاجز نے پہلے جو تو پیغہ حضور کے بیان کے متعلق عام لوگوں کے تاثرات کے بارہ میں لکھا تھا وہ لائلپور سے متعلق تھا نہ کہ صرف لاہور کے بارے میں۔- A ا یہ واقعہ یہ ہے کہ تعلیم یافتہ طبقہ کے لوگوں نے مجھ سے از خود کئی بار ذکر کیا ہے۔یہاں بھی اور مقاماتے ہیں بھی۔کہ حضور کا بیان واضح صاف صاف۔اور صداقت پر مبنی ہے۔اور ہر لفظ کے حال فیصل آبادنیا کے انگر اصل خلا میں مقامات لکھا ہے جو سم تعلم ہی ہو سکتا ہے۔