تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 412
کر دیا ہے اب ہم وہاں کیا پیش کرتے کہ عیسی آسمان سے زندہ اترنا ہے۔اس سائنس کے زمانہ میں کون مانے گا ؟ گلے اپنے مولویوں اور وکیلوں پر درست نہیں۔مرزائیوں کے عقائد عقل اور دلیل پر ملیتی ہیں ؟ ایک مہنس کر کہنے لگا " مجھے تو ڈر ہے کہ منیر بھی مرزائی نہ ہو جائے ؟ حضور میں نے یہ اس لیے لکھا کہ بیان کا اخبارات میں آنے سے قبل بے حد Suspense تھی۔لوگ سبھی اخبار کو چھینتے تھے کہ آج بیان آیا ہوگا ، انگریزی کی اخبارات گاؤں گاؤں میں گئی ہیں منصورہ کا بیان پڑھنے کے لیے۔اور لوگ ہم کو اپنے خیال کے مطابق ڈراتے تھے۔اب پتہ چلے گا۔اب پول کھلیں گے۔اب حقیقت واضح ہوگی۔اللہ نے ہماری مدد کی اور فتح مبین دی۔کس قدر خوش قسمت ہیں کہ اپنی آنکھوں سے معجزہ پر معجزہ دیکھ رہے ہیں کسی قدیر روح پرور اور ایمان افرو نہ یہ زمانہ ہے۔اپنے میں تو کوئی ایسی خوبی نہیں۔بزرگوں کی نیکی اور ایمان کی وجہ سے یہ دولت ہم کولی۔خدا اس کی قدر و قیمت اور اہمیت کا صحیح احساس پیدا کرے اور ہمارا عمل درست ہوئیا - جناب پیر بوردی محمد شریعت صاحب وکیل متشکریمی امیر جماعت احمدیہ مشکگری نے اپنے مورخہ ۱۹؎ جنوری انوالہ میں لکھا :- تحقیقاتی کمیشن کے رو بہ و حضور کے بیان کی تو رو میداد اخبارات میں چھپی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ فضل کیا ہے کہ حضور کی شہادت ایسے رنگ میں ہوئی کہ مخالفین کے تمام اعتراضات خود بخو وصاف ہو گئے ہیں۔مجلس عمل والوں نے ہی حضورہ کو شہادت کے لیے بلوایا تھا اور ان کی اور مو دو دیوں کی تمام کی تمام تدابیر خاک میں مل گئیں۔انہوں نے جو اعتراضات کی تو ہیں گاڑہ ہی ہوئی متقیں سب ساکت ہو گئیں۔یہ اللہ تعالیٰ کا فضل اور احسان اور اُس کا نشان ہے : ۳- جناب گیانی عباداللہ صاحت سے ۲۱ جنوری ۹۵۳اہ کو لکھا: - خاکساره دو چار دن سے لاہور آیا ہوا ہے۔یہاں مجھے مختلف خیالات کے متعدد لوگوں سے ملنے کا اتفاق ہوا ہے۔آجکل یہاں پر جہاں بھی دو چارہ پڑھے لکھے لوگ جمع ہوں۔حضور کے بیان کا تذکرہ کے انتظار کی پریشانی سے حال ساہیوال : سے سکھ مذہب کے محقق سابق مینجر روزنامه الفضل ربوہ - گیانی صاحب موصوف ان دنوں مکان نمبر ۲۵۳ نیز و اڈہ قلعہ میہاں سنگھ گوجرانوالہ میں بطور مبلغ مقیم تھے۔