تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 414 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 414

قانون کے سانچے میں ڈھلا ہوا ہے جبکہ مولویوں کی بے مائیگی اور جہالت ظاہر ہوچکی ہے۔(1) کل ہی کا واقعہ ہے کہ ایک وکیل نے جو مولویوں کے خاندان سے ہے اور دینی واقفیت رکھنے والا ہے۔خود بخود مجھے کہا۔کہ اس بیان کے بعد پڑھے لکھے لوگوں کو تو ضرور احمد ی ہو جانا چاہیے۔مولویوں کے پاس خرافات کے سوا کچھ نہیں۔یہ اظہار رائے اس نے از خود کیا۔اسی طرح اور بہت سے لوگوں سے ذکر آیا۔(۳) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی معصومیت کے بارے میں حضور کے بیان سے کلی طبع لوگوں رنے) غلط فہمی پھیلانی چاہی تھی۔لا يَكَادُونَ يَفْقَهُونَ حَدِيْنا - کے مطابق۔لیکن معاً بعد درخواست جو دی گئی ہے۔اس کا بہت عمدہ اثر نکلا ہے۔(م) بعض لوگوں کا یہ بھی خیال پا یا گیا کہ یہ کل ایک دفعہ پھر شور مچائیں گے۔ابھی دبے ہوئے اور مجبور ہیں۔واللہ اعلم۔(۵) حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی کتاب ختم نبوت کی حقیقت بھی بہت اچھا اثر پیدا کرہی ہے۔یہاں پر ہم نے۔/ ۱۵۰ روپے کی کتب تقسیم کی تھیں۔4) ضرورت اس بات کی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی چھوٹی چھوٹی کتب عمدہ طور پر طبع کردا کے مفت یا برائے نام اس وقت پھیلائی جاویں۔کاغذ کی گرانی ایک مانفع اس وقت ہے۔یہ ضرور ہے کہ لوگ مسائل کی ٹوہ میں لگے ہوئے ہیں۔بعض لوگ کتا ہیں دیکھنا چاہتے ہیں۔ایک بڑے زمیندار نے مجھ سے کہا کہ ہمیں کتا ہیں رد - ایسا نہو کہ ہم غفلت میں اپنی عاقبت خراب کہ بیٹھیں۔" جناب عبد الجلیل صاحب عشرت دبر اور مولانا عبدالمجید صاحب سالک سابق ایڈیٹر روزنامہ انقلاب - لاہور) نے مورخہ ۲۶ جنوری ۱۹۵۳ء کو ڈھاکہ سے حضورہ کی خدمت میں حسب ذیل مکتوب لکھا:۔د حضور نے جو بیان تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے دیا ہے۔اس کو یہاں کے اخبار Morning" News نے شائع کیا ہے۔حالانکہ اس اخبار نے پہلے کوئی بیان ہو کمیٹی کے سامنے دیا گیا تھا۔شائع نہیں کیا یہ ماشاء اللہ حضور کا بیان نہایت ایمان افزا - جرأت مندانہ۔عالمانہ ہے اور الہی تامید سے یہ لفظ اصل مکتوب میں نہیں ہیں۔بغرض وضاحت اضافہ کیسے گئے ہیں دنا قل)