تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 411 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 411

بے حد تعریف اور اپنے اپنے رنگ میں کوئی اپنی خفت مٹانے کے لیے اپنے وکیلوں کو کوستا ہے اور اور کہتا ہے کہ پاکستان کا چوٹی کا وکیل ایسی جرح کے لیے چاہیے تھا۔کوئی کہتا ہے کہ ایسا مولوی تلاش کرنا تھا جس کو دینی و دنیوی علوم پر عبور ہوتا۔کوئی مظہر علی اظہر اور میکش کو کوستا ہے اور نالائق بیان کرتا ہے اور بعض یک زبان ہو کر کہتے ہیں کہ واقعی ایسا بیان ذہانت کا شاہکار ہے۔میر قیوم نے کہا کہ خیال است ا سے کوئی متفق ہو یا نہ ہونگرہ بیان کو پڑھ کر یہ احساس شدید ہوتا ہے کہ بیان نہایت Straight ہے اور پوری دیانت و امانت سے اپنی رائے کا اظہار ہے۔کوئی بات چھپائی نہیں۔کہنے لگا مرزا صاحب کا عدات میں آنا پاکستان کے تمام علماء کو کھلا چیلنج تھا کہ آؤ مجھ پر جس طرح کا چاہو سوال کر لو۔ان وادیوں میانه به دست شکست ہے کہ کچھ بھی اپنے مطلب کی بات پوچھ نہ سکے یا ایک نے کہا کہ یہ تو ثابت ہو گیا ہے کہ مرزا صاحب پاکستان میں واحد عالم ہیں۔بیان میں تناقض قطعا نہیں ، ایک نے کہا میں تو حیران ہوں کہ مرزا صاحب نے ایک دو سوال میں ہی جرح کرنے والے کو" "Dirarm" کر دیا کہ ایک نے کہا واقعی سرنہ اصاحب نے کسی کو چلنے نہیں دیا ایک نے باک وکیل نے کہا کہ مرزا صاحب کے بیان سے تو اب بھی متفق نہیں مگر یہ تسلیم کر گیا ہوں کہ ایسا ذہین اور دیانتدار آدمی کوئی اور نہیں ایک نے کہا کہ دو میں اب بھی سمجھتا ہوں کہ مرند اصاحب کے عقیدے اور ہی مگر جواب ایسے صحیح اندازہ میں دیئے ہیں کہ کسی کے پتے کچھ نہیں پڑا یا لوگ حیران ہیں کہ اس قدر اختصار، اس قدر مختصر جواب ، اور ایسے مشکل اور حیران کن مسائل کے متعلق۔ایک کہنے لگا کہ یہ بیان تو مذہبی Terminalogy کی ڈکشنری ہے کہ انگریزوں کی تعریف کے متعلق سوال کا جواب تو بے حد سراہا جاتا ہے نہ کہتے ہیں، لو بھائی یہاں سے بھی پہنچ گئے یہ اس سوال کو توپ کا درجہ دیتے تھے۔باقی جنازہ۔نماز کے متعلق سوالوں کے جواب دپیسا کچھ تنقیح نہیں کرتے۔ہر جواب کو لاجواب سمجھتے ہیں اور ملاؤں کو گالیاں دیتے ہیں کہ اگر کچھ قرآن، حدیث اور کتب میں ان عقائدہ کے خلاف تھا تو کیوں نہ اس وقت مرزا صاحب کے پیش کیا۔بڑی مجلس میں ہوئی تھی۔ایک وکیل نے کہا یہ بات کہتی یہ ہے کہ مرزائیوں کے عقائد بڑے Riltanal ہیں۔انہوں نے مذہب کو Ratialise اه صاف صاف اور دیانتدارانہ : سلہ غیر مسلح نہ سکے اصطلاحا کے عقل سے ہم اسنک