تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 410
۴۰۸ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اَنْتُمْ أَعْلَمُ بِأَمُورِ دُنیا کم یعنی تم لوگ اپنے دنیوی امور کو بہتر سمجھ سکتے ہو۔اور دوسری میں یہ ذکر ہے کہ آپ نے فرمایا اگر تم میں سے کوئی شخص مجھے چھو کہ دے کر اپنے حق میں فیصلہ کر والے تو اگر وہ اس سے فائدہ اٹھا کر دوسرے کا حق لینا چاہے گا تو وہ آگ کھائے گا) وہ اس بات کے اظہار کے لیے بیان کی گئی تحقین کہ جو غیرمسلم مصنفین اس قسم کی حدیثوں سے آپ کی معصومیت کے خلاف استدلال کرتے ہیں وہ حق پر نہیں۔ان احادیث میں آپ نے صرف اپنی بیشتر تیت کا اظہار کیا ہے ان سے آپ کی معصومیت کے خلاف استدلال کرنا درست نہیں اور جس شخص کے متعلق خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ مَارَهُيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلكِن الله ت می رجب تو نے پھینکا تو تو نے نہیں پھینکا بلکہ خود خدا ہی نے پھینکا) اس کا اپنی بشریت کا علی الاعلان اقرار اس کے درجہ کے بلند ہونے اور اس کے اخلاق کے بے عیب ہونے پر دلالت کرتا ہے کسی عجیب یا نقص پر دلالت نہیں کرتا ہے تمت (بحوالہ تحقیقاتی عدالت میں حضرت امام جماعت احمدیہ کا بیان در ستادم ناشر :- سندھ ساگرا کادمی - کراچی نمبر ۳ و پر نر سعید آرٹے پریس حیدر آباد) پر مسٹ نمبر ۳۳۳ اگست ۱۵۳ غیر از جماعت معززین کے شاندار تاثرات سید حضرت علی موجود کے اس بصیرت افروز مصلح بیان کا پبلک میں بہت چرچا ہوا۔اور بہت غیر از جماعت معززین نے بھی اس پر شاندار الفاظ میں خراج تحسین ادا کیا جس کا ذکر ہمیں اس دور کے خطوط سے ملتا ہے جو ان دنوں بعض مخلصین جماعت نے حضرت اقدس مصلح موعود کی خدمت میں میں لکھے۔اور جو یہ ہیں :۔ا۔جناب چوہدری شریف احمد صاحب باجوہ ایڈووکیٹ کرشن بھون ، لیاقت علی روڈ لالپور نے اپنے مکتوب مورخہ ۸ ار جنوری شیر میں لکھا:۔میرے پیارے آقا : السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاته حضور کا بیان چھپنے کے بعد آج ہی ہم لوگوں کو طے ہیں۔ہر وکیل ہو ملتا ہے تعریف کرتا ہے۔اه حال فیصل آباد