تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 372 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 372

تیسرا باب حضرت مصلح موعود کا عدالتی بیان سیدنا حضرت المصلح الموعود امام جماعت احمدیہ کو تحقیقاتی عدالت نے بطور گواہ بلایا اور ۱۳-۱۴ جنوری ۱۹۵۷ء کو لاہور ہائی کورٹ میں حضور کی شہادت قلمبند کی گئی۔پہلے خود فاضل جج صاحبان نے مختلف سوالات پوچھے اور اس کے بعد چوہدری نذیر احمد صاحب ایڈووکیٹ جماعت اسلامی اور مولانا مرتضی احمد خان صاحب میکنشی نمائندہ مجلس عمل نے جرح کی۔جرح کے دوران عدالت عالیہ نے بھی بعض سوالات کیے۔آخر میں عدالت کی اجازت سے چوہدری نذیر احمد صاحب نے چند مزید سوالات پوچھے۔اس بیان کے دوسرے روز حضور کی طرف سے دو تحریری وضاحتیں بھی داخل عدالت کی گئیں۔یہ پر معارف بیان جو تین دن جاری رہا۔عدالت عالیہ نے انگریز ہی نہ بان میں املاء کر ایا حسیں کا اردو ترجمہ سندھ ساگر اکادمی کرا چی خبر نے " سعید آرٹ پر لیں جہد آباد در سندھ اسے چھپوا کر شائع کیا۔یہ رسالہ احمدیہ کتابستان کی مندرجہ ذیل شاخوں سے مل سکتا تھا : - 1- رسالہ روڈ۔حیدر آباد (سند) - (۳- ۳۶ سنت نگر۔لاہور پنجاب - ۳۱ میگرین لائن صدر کراچی۔حضرت سیدنا المصلح الموعود کے اس معرکة الآراء عدالتی بیان کا اردو ترجمہ صیغہ نشر و اشاعت ربوہ نے انہیں دنوں ٹریکٹ کی شکل میں شائع کر دیا تھا میں کامل متن ذیل میں درج کیا جاتا ہے:۔" تحقیقاتی عدالت میں حضرت امام جماعت احمدیہ کا بیان بجواب سوالات عدالت بتاریخ ۱۳ جنوری ۱۹۵۳ء سوال به کیا ده تحریری بیان جو ۲۲ جولائی ۱۹۵۳ کو صدر انجمن احمدیہ کی طرف سے اس عدالت