تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 371
٣٧٠ فیصلہ کر دینا چاہیئے کہ اس اسلامی حکومت میں فلاں فرقہ کے لوگ رہ سکتے ہیں۔دوسروں کے لیے گنجائش نہیں۔تاکہ باقی سب فرقے ابھی سے اپنے مستقبل کے متعلق غور کر لیں اور دنیا کو بھی معلوم ہو جائے کہ علامہ پاکستان کسی قسم کی حکومت یہاں قائم کرنا چاہتے ہیں۔۔اور اگر یہ نہیں کرنا اور واقعہ میں یہ ایک خطرناک بات ہے تو پھر ہم تمام مسلمانوں سے یہ اپیل کہیں گے کہ وہ احمدیوں کو اقلیت قرار دینے کی بجائے مولوی صاحبان کے دل میں تقویمی اور خشیت اللہ کی روح پیدا کر نے کی کوشش کریں۔اور ان کو یہ سبق سکھائیں کہ عدل اور انصاف اور یہ وا داری کا طریق سب سے بہتر طریق ہے اور اسلام کی خدمت کرنے کا یہی ایک ذریعہ ہے۔۔اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو اس بات کی توفیق عطا فرمائے کہ جب ان کے استاد علماء کی حالت خراب ہو گئی تو شاگہ رہی استاد کی کرسی پر بیٹھیں اور اپنے سابق اساتذہ کو ان کے فرائض کی طرف توجہ دلائیں۔کہ اسلام مزید ضعف اور تباہی سے بچ جائے اور اللہ تعالیٰ مسلمانوں کا ہاتھ پکڑے اور ان کی مدد اسی طرح کرے جس طرح ابتدائی تین سو سال میں اس نے مسلمانوں کی مدد کی تھی۔اللهم امين له اگر چہ قادیانی مسئلہ کا جواب نومبر ۱۹۵۳ را تک لکھا جاچکا تھا لیکن اس کی اشاعت ملکی حالات اور دیگر مصالح کی وجہ سے ملتوی کر دی گئی اور بعد ازاں اسے پنجاب کی بجائے کراچی سے شائع کیا گیا۔یہ جواب انجین احمدیہ کراچی کی طرف سے چھوایا گیا اور یہ ولا التقلید ہی ملکانی محل فرو روڈ پوسٹ کیس نمبر ۲۱ ، کراچی نے شائع کیا۔سے مولا امور وی کے سالہ ادیانی مسلہ کا جواب میں ۱۲۰ تا ۱۲۶ طبع اقول ناشر دار التجلی کراچی