تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 356
۳۵۵ احمدیوں کو کافر سمجھیں اور کہیں اس سے فساد کا کوئی احتمال نہیں۔لیکن اگر احمدی جماعت جوابی طور پر بھی انہیں کافر کہے۔تو اس سے فساد کا احتمال پیدا ہو جاتا ہے۔ان فسادات کے سیاسی ہونے کا ایک اہم ثبوت یہ بھی ہے کہ جماعت احمدیہ کے خلاف سراسر جھوٹ بولا جاتا تھا۔اگر جماعت احمدیہ کے عقائد غلط تھے۔تو ان کو بیان کرنا کافی تھا۔جھوٹ بنانے له کی کیا ضرورت تھی۔ملا متواتر یہ کہا جاتا تھا۔کہ احمدی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین نہیں مانتے۔حالانکہ یہ سراسر افتراء تھا۔احمد ہی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم انہیں مانتے تھے ، اور مانتے ہیں احمدی اور قیامت تک مانتے رہیں گے کیونکہ قرآن کریم میں سول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبین کا گیا ہے۔اور احمدی قرآن کریم کو مانتے تھے۔مانتے ہیں اور قیامت تک مانتے رہیں گے۔اور بیعت میں بھی ختم نبوت کا اقرار لیا جاتا ہے۔اس جھوٹ کے بنانے کی وجہ یہی معنی کہ علماء جانتے تھے کہ اس کے بغیر لوگوں کو غصہ نہیں دلایا جا سکتا۔اسی طرح لوگوں کے سامنے یہ کہا جاتا تھا کہ احمدی بغیر احمدی کو کافر کہتے ہیں اور یہ کبھی بھی نہیں کہا جاتا تھا کہ ہم نے دس سال تک ان کو کافر کہا ہے کہیے اس کے بعد انہوں نے ہمیں کافر کہنا شروع کیا ہے اور نہ کبھی یہ کہا جاتا تھا کہ کفر کے جو معنی ہم کرتے ہیں۔احمدی وہ مہینے نہیں کرتے۔احمدی فلاں معنے کہتے ہیں (جو حضرت امام جماعت احمدیہ کے خطبہ مطبوعہ الفضل نئی ۱۹۳۵ء میں بیان کیے گئے ہیں میں کے صاف معنے یہ ہیں کہ مذہب کا دفاع مقصود نہیں تھا بلکہ سیاسی طور پر ایک فتنہ پیدا کرنا مقصود تھا ورنہ کیا خدا جھوٹ کا محتاج ہوتا ہے کیا خدا دھوکہ بازی کا محتاج ہوتا ہے۔اسی طرح یہ کہا جاتا تھا کہ احمدی جماعت مسلمانوں کی سیاست سے کٹ گئی ہے۔کیونکہ وہ تہار سے جنازے نہیں پڑھتی اور یہ کبھی بھی نہیں کہا گیا کہ ہم نے احمدیوں کو سیاست سے کاٹ دیا ہے کیونکہ ہم نے ان کے جنازے پڑھنے سے لوگوں کو روک دیا ہے اگر وہ ان باتوں کو ظاہر کرتے تو لوگوں کو یہ علوم ہوجاتا کہ علماء کا مقام یہ ہے کہ کثیر التعداد جماعت ہو چاہے کرے اسے جائز ہے اور قلیل استعداد جماعت کو صحیح طور پر اپنے دفاع کرنے کی بھی اجازت نہیں اور عقل مند لوگ سمجھ جاتے کہ یہ مذہبی جھگڑا نہیں۔سیاسی جھگڑا ہے ہم کورٹ سے درخواست انکا یہاں حضور نے حاشیہ پر رکھا حوالہ پن سے یکم مئی (ناقل) ”