تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 355 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 355

۳۵۴ (6) ساجده خانم بنت فضل الر حمن صاحب (A) ممتاز بیگم زوجہ فضل الرحمن صاحب (۹) سردار بیگم زوجیہ احمد علی خانصاحب (۱۰) فیات میگیم بنت احمد علی خانصاحب # رو سخط) صدیق الحسن گیلانی تیم مطلقه را ولپنڈی اس خط سے ظاہر ہے کہ عین ان فسادات کے ایام میں یہ امران آدمیوں پر ظاہر ہوا۔کہ احمدی عقائد غلط ہیں اور جماعت اسلامی کے عقائد درست ہیں اور جماعت اسلامی کے راولپنڈی کے سیکرٹری صاحب نے غیر معمولی طور پر یہ ضرورت بھی محسوس کی کہ امام جماعت احمدیہ کو اطلاع دیں۔کہ بغیر جبر داکراہ کے ایام میں اس قدر یہ آدمی جماعت احمدیہ سے بیزار ہو کر اسلامی جماعت کے سیکرٹری کے پاس تو بہ کا اظہار کرتے ہیں اس خط سے خوب واضح ہے کہ جبر و اکراہ بالکل استعمال نہیں کیا گیا اور جبر واکراہ کے ساتھ اسلامی جماعت کا کوئی بھی تعلق نہیں تھا۔اتفاقی طور پر نبر و اکراہ کے دنوں میں بغیر جبر و اکراہ کے بارہ آدمیوں پر راتوں رات احمدیت کی غلطی ثابت ہوگئی۔اور بغیر اس کے کہ جماعت اسلامی کا کوئی بھی ان فسادات سے تعلق ہو۔وہ لوگ دوڑ کر جماعت اسلامی کے سیکڑی کے پاس پہنچے اور ان کو ایک تحریر دیدی۔جماعت احمدیہ کے اوپر صرف یہ الزام ہے کہ بعض موقعوں پر اس نے حملوں کا جواب کیوں نیا۔حالانکہ جواب دینا تو انسان کو اپنی جان بچانے کے لیے ضروری ہوتا ہے اگر جواب نہ دیں تو لوگوں رحقیقت روشن کسی طرح ہو۔مثلا اسی کمیشن کے سامنے مولانامر تھے صاحب میکنش نے امام جماعت احمدیہ تے سوال کیا۔کہ ہم تو آپ کو اس لیے کافر کہتے ہیں کہ آپ کا فر ہیں۔آپ ہمیں کس لیے کافر کہتے ہیں۔ان کی عرض یہ تھی کہ احمدی چونکہ دوسروں کو کافر کہتے ہیں اس لیے لوگوں کے دلوں میں اشتعال آتا ہے لیکن چونکہ ان کے ساتھ کفر کی ایک ایسی تشریح پیش کی گئی جس پر وہ اعتراض نہیں کر سکتے تھے۔اس لیے ان کو اپنا سوال اس رنگ میں ڈھالنا پڑا۔کہ ہم تو آپ کو کا فرسمجھ کر کافر کہتے ہیں۔آپ کہیں کا مرکیوں کہتے ہیں۔گویا ان کے نزدیک علما و احرار و مجلس عمل و جماعت اسلامی بیشک ے حاشیہ میں یہاں حضور نے بوقت نظر ثانی تعداد کا لفظ لکھا