تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 357
۳۵۶ کرتے ہیں کہ اس فتنہ کو دور کرنے کا ایک آسان ذریعہ یہ ہے کہ وہ علماء کو بھی مجبور کرے اور ہمیں بھی مجبور کرے کہ جو فتویٰ ان کے ہمارے بارے میں ہیں وہ بھی اکٹھے کر دیئے جائیں اور جو فتوی ہمارے ان کے بارہ میں ہیں وہ بھی اکٹھے کر دیئے جائیں اور ان کی وہ شائع شدہ تنتشر بجات بھی شامل کی جائیں جو دونوں فریق آج سے پہلے کر چکے ہیں اور پھر ان فتووں کو جماعت احرار مجلس عمل۔جماعت اسلامی اور جماعت احمدیہ کے خرچ پر شائع کیا جائے اور آئندہ یہ فیصلہ کر دیا جائے کہ سوائے اس مجموعی کتاب کے ان فتووں کے مضمون کے متعلق اور کوئی بات کسی کو کہنے یا لکھنے کی اجازت نہیں ہو گی ہم خود اس پر عمل کرنے کے لیے تیار ہیں ہم اس کتاب آدھا خرچ دینے کے لیے تیار ہیں مگر ہمیں یقین ہے که به مولوی صاحبان جو جماعت احرار، جماعت اسلامی اور جماعت عمل کے نمائندے ہیں کبھی اس بات پر عمل کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں گے۔عرض کلی طور پر ان مساوات کی ذمہ داری جماعت اسلامی۔مجلس احرار اور مجلس عمل پر ہے جماعت احرار نے ابتداء کی۔مجلس عمل نے اس کو عالمگیر بنانے کی کوشش کی اور جماعت اسلامی ٹوٹ کی امید میں آگے آگے چلنے لگ گئی۔حقیقت یہ ہے کہ ابتدائی ایام کی سستی اور غفلت نے حکومت کو ایک ایسے مقام پر کھڑا کہ دیا کہ اگر وہ چاہتی بھی تو ان فسادات سے بچ نہیں سکتی تھی۔پہلے انہوں نے غفلت برتی پھر انہوں نے اس فساد کو ایک دوسرے کی طرف منتقل کرنے کی کوشش کی اور آخر میں انہوں نے سمجھا ک اگر عطاء کو کچھ میں کہا گی تو عوامی بیگ وغیرہ مسلم لیگ کو مکمل دیں گی اور طاقت دور ہو جائیں گی۔یہ علماء قائد اعظم کے زمانہ میں بھی موجود تھے۔مگر انہوں نے ان کو منہ نہیں لگایا۔بار بار عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری اپنی تقریروں میں بیان کرتے رہے ہیں۔کہ میں نے اپنی داڑھی قائد اعظم کے بوٹ پر کی مگر پھر بھی ان ک دل نہ پی جائے وہی عطاء اللہ شاہ بخاری اب بھی تھے اور وہی قائد اعظم والی حکومت اب بھی تھی۔صرف قائد اعظم فوت ہو گئے تھے۔اور ان کے نمائندے کام کر رہے تھے۔آخر کیا وجہ ہے کہ وه هر دو دلیر نہ ڈرا۔اور یہ علماء اس کے ڈر کے مارے اپنے گھروں میں چھپے میٹھے رہے۔لیکن سه آزاد ۴ ار نومبر ۶۱۹۴۹ جلد ۷ ۵۳ "