تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 353
۳۵۲ سے متواتر پوسٹ کرنے کے حکومت نے کوئی موثر قدم نہیں اٹھایا۔اس نے روم کے بادشاہ نبرد کے نقش قدم پر چلنا پسند کیا جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ Rome burns but Nero plays with his fiddle آخر وجہ کیا ہے کہ جبکہ جماعت احمدیہ متواتہ فسادات کے پیدا ہونے کے امکان کی طرف حکومت کو توجہ دلاتی رہی۔حکومت انہیں یہ طفل تسلیاں دیتی رہی کہ فسادات کا کوئی خطرہ نہیں ہے اور یہ کہ جب کوئی قانون کی خلاف ورزی کرے گا۔ہم اسے پکڑ لیں گے لیکن جب فساد کی صریح انگیخت بعض لوگ کرتے تھے۔تو کبھی لوکل افسروں کے توجہ دلانے پر یہ کہ دیاجا تا تھا کہ یہ آدمی اہم نہیں حالانکہ فسادات کے لیے ملکی اہمیت نہیں دیکھی جاتی علاقائی اہمیت دیکھی جاتی ہے اور کبھی یہ کہ دیا جاتا کہ اگر اس وقت کسی کو پکڑا گیا تو شورش بڑھ جائے گی۔حالانکہ شورش کے بڑھنے کا خطرہ تو زمانہ کی لمبائی کے ساتھ لمبا ہوتا ہے اس وقت خاموش رہنے کے یہ معنی تھے کہ شورش کے بڑھنے کو اور موقعہ دیا جائے حالانکہ شہادتوں سے صاف ثابت ہے کہ مرکز می حکومت سے دو ٹوک فیصلہ چاہنے کی کبھی بھی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی اور کبھی یہ کہ دیا جاتا کہ چونکہ مرکزی حکومت نے ابھی تک اصل مسئلہ کے متعلق کوئی فیصلہ نہیں کیا اس لیے ہمارا دخل دینا مناسب نہیں کبھی انسپکٹر جنرل پولیس توجہ دلا تا تو خاموشی اختیار کی جاتی۔اور سمجھ لیا جاتا کہ ہم ایک دفعہ فیصلہ کر چکے ہیں۔اب مزیلہ اظہار رائے کی ضرورت نہیں کبھی مقامی حکام یا پولیس اگر بعض لوگوں کو پکڑ لیتی تو ہماری حکومت ان کو اس لیے رہا کرنے کا آرڈر دے دیتی کہ دہ لوگ اب پچھلے کام پر پیشمان ہیں۔حالانکہ گزشتہ تاریخ احرار کی اس کے خلاف متقی جیسا کہ شہادتوں سے ثابت ہے اور متقبل نے بھی اس خیال کو غلط ثابت کر دیا۔یہ کہنا بھی درست نہیں کر ان لوگوں نے اصلاح کی یہ شہادتیں اور لٹریچر اس کے خلاف ہے۔گویا ایک لاکھ یا دولاکھ پاکستانیوں کی جان کی کوئی قیمت نہیں تھی۔اس کے لیے حکومت کو کسی قدم کے اٹھانے کی ضرورت نہیں تھی۔آخر اگر کسی نے ملک میں کوئی غیر آئینی تقریر نہیں کی تھی اگر تمام لیڈر لوگوں کو امن سے رہنے اور احمدیوں سے یہاں حضور نے اس فقرہ کا اپنے قلم سے اضافہ فرمایا نہ حوالہ سیالکوٹ کا واقعہ کے یہاں حضور نے حاشیہ پہا اپنے قلم سے لکھا حوالہ جات کان