تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 352 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 352

۳۵۱ ہوا صدر مصر کو تار دیتی ہے کہ تمہاری غلطی ہے یہ لوگ ایسے نہیں ہیں یہ صاف بتا تا ہے کہ دونوں تحریکیں سیاسی ہیں اور دونوں ایک دوسرے کا بازو ہیں۔مذہب کا صرف نام رکھا گیا ہے اور اسی وجہ سے جب اس تحریک فسادات نے زور پکڑا اور جماعت اسلامی نے یہ محسوس کیا کہ اس ذریعہ سے وہ حکومت کے کچھ لوں کی نظرمیں بھی پسندیدہ ہو جائیں گے اور عوام الناس میں بھی ان کو قبولیت حاصل کرنے کا موقع میسر آ جائے گا۔تو وہ اس تحریک میں شامل ہو گئے۔ہمیں تعجب ہے کہ مسٹر انور علی صاحب آئی بھی پولیس مولوی عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری کے متعلق تو یہ کہتے ہیں کہ لائلپور کی تقریر میں ان کا یہ کہنا کہ اس اس رنگ میں فساد ظاہر ہوں گئے یہ بتاتا ہے کہ وہ ان فسادات کی سکیم میں شامل تھے۔لیکن مولانا مودودی صاحب کی لاہور کی نظریہ جس میں وہ یہ کہتے این که اگر حکومت نے یہ باتیں نہ مانیں تو جس رنگ میں پازیشن کے وقت فسادات ہوئے تھے اسی رنگ میں فسادات ہوں گے اس کے متعلق وہ یہ کہتے ہیں کہ ان کے متعلق مجھے یہ شبہ نہیں تھا کہ وہ کوئی سیاسی کام گورنمنٹ کے خلاف کرتے ہیں تعجب ہے ایک ہی قسم کی تقریر میں دو شخص کرتے ہیں اور ایک سے اور نتیجہ نکالاجاتا ہے اور دوسری سے اور۔حالانکہ مولانا مودودی نے جس قسم کے فسادات کی طرف اشارہ کیا تھا۔منادات تفصیلاً اسی رنگ میں پیش آئے۔بالو وہ الہام کے مدعی ہوتے کہ خدا تعالے نے مجھے ایسا بتا یا ہے تب ہم اس امر کی تحقیقات کرتے مگر وہ لو الہام کے منکر ہیں۔آخر انہیں کیونکر پتہ لگا تھا۔کہ اُسی رنگ میں فسادات ہوں گے جس رنگ میں پازیشون کے زمانہ میں فسادات ہوئے تھے۔فسادات کے مختلف پہر دن (Pettern) ہوتے ہیں اور ہر وقت اور ہر ملک میں ایک قسم کے فسادات ظاہر نہیں ہوتے۔گزشتہ پا میشن کے زمانہ میں فساد کا ایک معتین طریق تھا جو ہندوؤں اور سکھوں نے مقرر کیا تھا۔مغربی پنجاب میں بھی فسادات ہوئے مگر وہ اس رنگ میں نہیں ہوئے ان کا رنگ بالکل اور تھا۔مگر جو فسادات پچھلے دنوں میں ہوئے ان کا پیڑن رہی تھا جو کہ مشرقی پنجاب میں استعمال کیا گیا تھا اور اس کی طرف مولانا مودودی صاحب نے اشارہ کیا تھا۔رمن یہ ایک حقیقت ہے کہ باوجود نشہ اللہ اور ۵۳؛ میں جماعت احمدیہ کی طرف ے حضرت مصلح موعود کے قلم سے یہاں حاشیہ میں لفظ حوالہ لکھا ہے