تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 354 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 354

۳۵۳ کی جان کی حفاظت کرنے کا وعدہ کر رہے تھے اور حکومت کو ان کے وعدوں پر اعتبار تھا تو یہ کس طرح ہوا که احمدی قتل کیے گئے۔اور ان کی جائیدادیں تباہ کر دی گئیں۔ان کے گھروں کو آگ لگا دی گئی۔اور کئی جگہ پر انہیں مجورکرکے ان سے احمدیت تحرک کر دائی گئی ہم نہیں کہ سکتے کہ کوئی احمدی اپنے عقیدہ کو ترک نہیں کر سکتا۔دنیا میں ہمیشہ سے ہی لوگ اپنے عقائد چھوڑتے آئے ہیں اگر کوئی احمدی بھی اپنا عقیدہ چھوڑ دے تو یہ کوئی عجیب بات نہیں ہے لیکن وجہ کیا ہے کہ احمدیت کو ترک کرنے کا خیال ان دنوں میں پیدا ہونا شروع ہوا۔جن دنوں میں چاروں طرفت احمدیت کے خلاف قتل اور غارت کا بازار گرم تھا ہم مثال کے طور پر راولپنڈی۔سیالکوٹ ، اوکاڑہ ، ملتان ، گوجرانوالہ۔شاہدرہ - لاہور - اور لالپونہ کے واقعات کو پیش کرتے ہیں یہ عجیب بات ہے کہ انہی فسادات کے ایام میں جماعت اسلامی جوامن و امان کے قیام کی واحد ٹھیکیدارا اپنے آپ کو ظاہر کرتی ہے اس کے سیکریڑی نے مندرجہ ذیل خط امام جماعت احمدیہ کو لکھا۔امیر جماعت اسلامی تاریخ ۱۹ مارچ ۶۱۹۵۳/ شمار نمبر ۱۰۳۹ - کریمی - السلام على من اتبع على الهدى مندرجہ ذیل حضرات نے قادیانیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کیا ہے انہوں نے تحریری طور پر دفتر ہذا کو اطلاع دی ہے۔کہ ان پر کوئی دباؤ نہیں ڈالا گیا۔اور نہ ہی کسی ڈر اور خوف سے انہوں نے توبہ کی ہے بلکہ برضا و رغبت اور پوری طرح سمجھ کر اسلام قبول کیا ہے (1) فضل الرحمن صاحب سپروائزر ۵۰۰۰ مکان ۷/۵۳۰ کالج روڈ راولپنڈی (۲) بچوہدری احمد علی خان (۳) حفظ الرحمن صاحب (۴) عطاء الرحمن صاحب (۵) سمیع الرحمن صاحب (4) مطیع الر حمن صاحب لے یہاں حضور نے حاشیہ پر اپنے قلم سے لکھا ، حوالہ جات 11