تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 345 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 345

لام ام اس طور پر دبانہ کی۔اگر یہ واقعات ظاہر نہ ہوتے۔یا اگر صوبجاتی حکومت ان کو دبانے میں کامیاب ہو جاتی تو مارشل لاء کے جاری کرنے کی کوئی وجہ نہیں تھی۔اس سوال کا جواب دینے میں کچھ نہ کچھ ذکر حکومت کا بھی آجاتا ہے کیونکہ ایسے بڑے پیمانہ پر فسادات جن کو پولیس نہ دبا سکے اور انتظامی عملہ نا کام ہو جائے دو ہی وجہ سے پیدا ہوا کرتے ہیں یا تو صیغہ اخبر رسانی کی شدید غفلت اور نا قابلیت کیوجہ سے یا عملہ انتظام کی عدم توجہ کی وجہ سے۔کیونکہ ایسے موقعہ پر جب کہ سول اور پولیس نا کام ہو جائے اور فوج کو دخل دینا پڑے۔یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ آبادی کی ایک کثیر تعداد اس میں شامل تھی یا آبادی کی ایک معقول تعداد ایسی منظم صورت میں فساد پر آمادہ تھی کہ فساد کی وسعت کی وجہ سے عام قانون کے ذریعہ سے اسے دبایا نہیں جاسکتا تھا۔اور یہ دونوں حالتیں یکدم نہیں پیدا ہو سکتیں۔ایک لیسے عرصہ کی تیاری کے بعد پیدا ہو سکتی ہیں۔اور ایک لمبے عرصہ کی تنظیم کے بعد یا ایک لمبے عرصہ کے اشتعال کے بعد ہی رونما ہو سکتی ہیں۔دنیا کی تاریخ پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ کہیں بھی سول معاملات میں فرج کو استعمال کرنے کی ضرورت پیش نہیں آتی جب تک کہ معاملہ ہاتھوں سے نہیں نکل جاتا اور یہ ہمیشہ ہی عرصہ دراز تک نفرت کے جذبات کے سلگتے رہنے اور ایک عرصہ تک محفتی تنظیم کے بعد ہی ہوتا ہے۔تیسری صورت وہ ہوا کرتی ہے۔جبکہ کوئی ظالم شخص اپنے اشتعال سے مجبور ہو کر باز دست فوج کو استعمال کرتا ہے تاریخ میں اس کی بھی مثالیں ملتی ہیں۔لیکن موجودہ مارشل لاء اس تعبیر می قسم میں شامل نہیں اس لیے لاء اینڈ آرڈر کی ذفتہ وار پنجاب حکومت متقی اور پنجاب حکومت نے ہ اور 4 (مارچ کو یہ یہ محسوس کر لیا تھا۔کہ اب ہم امن کو اپنے ذرائع سے قائم نہیں رکھ سکتے اور مرکز کو دخل دیتے کی ضرورت ہے پس چونکہ اس فیصلہ کی بنیاد صوبائی حکومت کے ساتھ تعلق رکھتی تھی اس لیے نہیں کہا جا سکتا کہ مرکزی یا فوجی افسروں نے فوری اشتغال کے ماتحت ایک کام کر لیا۔حالانکہ اس کی ضرورت نہیں تھی۔پس لاز مائیہی مانا پڑے گا۔کہ وہ حالات جو فروری کے آخر یا مارچ کے شروع میں ظاہر ہوئے۔ایک لمبی انگیخت کے نتیجہ میں تھے اور ایک باضابطہ تنظیم کے ماتحت تھے جس کیوجہ سے بادجود اس کے کہ ہزاروں کی تعداد میں پولیس موجود تھی سینکڑوں کی تعداد میں انتظامی افسر موجود تھے۔پھر بھی وہ لاہور کے فسادات کو روکنے کے قابل نہیں ہوئے۔